تین رکعت تراویح پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
1297
عبادات / نماز /

تین رکعت تراویح پڑھنے کا حکم

اگر امام صاحب نے تراویح میں تین رکعت پڑھیں اور دو رکعت کے بعد سلام نہیں پھیرا، بلکہ تینوں رکعتیں ملا کر ایک سلام کے ساتھ پڑھ لیں تو کیا حکم ہے؟ کیا تراویح دوبارہ پڑھنی ہوگی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر امام صاحب نے تین رکعت تراویح پڑھ لیں اور دوسری رکعت میں قعدہ کیا تھا، تو اس صورت میں دو رکعت تراویح درست ہوں گی، اور تیسری رکعت شمار نہیں ہوگی،البتہ تیسری رکعت میں کی گئی تلاوت کو دوبارہ پڑھنا ہوگا،لیکن اگر دوسری رکعت میں قعدہ نہیں کیا، تو اس صورت میں تمام تینوں رکعتیں باطل ہوجائیں گی، اور ان میں کی گئی تلاوت بھی دوبارہ کرنی ہوگی۔

حوالہ جات

*الهندية: (1/ 113،ط:دارالفکر)*
ولو ‌صلى ‌التطوع ‌ثلاث ‌ركعات ولم يقعد على رأس الركعتين الأصح أنه تفسد صلاته۔

*الشامية: (2/ 32،ط:دارالفكر)*
(قوله ‌أو ‌ترك ‌قعود ‌أول) لأن كون كل شفع صلاة على حدة يقتضي افتراض القعدة عقيبه فيفسد بتركها كما هو قول محمد وهو القياس، لكن عندهما لما قام إلى الثالثة قبل القعدة فقد جعل الصلاة واحدة شبيهة بالفرض وصارت القعدة الأخيرة هي الفرض وهو الاستحسان وعليه فلو تطوع بثلاث بقعدة واحدة كان ينبغي الجواز اعتبارا بصلاة المغرب، لكن الأصح عدمه لأنه قد فسد ما اتصلت به القعدة وهو الركعة الأخيرة. لأن التنفل بالركعة الواحدة غير مشروع فيفسد ما قبلها.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
33
فتوی نمبر 1297کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --