نابالغ بچوں کا مردوں کی صف میں کھڑا ہونا

فتوی نمبر :
1313
/ /

نابالغ بچوں کا مردوں کی صف میں کھڑا ہونا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں:مسجد میں باجماعت نماز کے دوران صفِ اوّل میں بڑوں کے ساتھ چھوٹے (نابالغ) بچوں کو کھڑا کرنا کیسا ہے؟مفتیانِ کرام رہنمائی فرمائیں۔ جزاکمُ اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہےکہ نابالغ بچوں کو مردوں کی صف سے پیچھےالگ صف میں کھڑا کرنا چاہیے، اگرایک یادو بچے ہوں تو ان کو بڑوں کی صف میں کھڑا کرسکتے ہیں۔اسی طرح الگ صف میں کھڑاکرنے کی صورت میں بچے شرارتیں کرکے دیگر لوگوں کی بھی نماز میں خلل ڈالتے ہوں ہو یا بچوں کے گم ہوجانے کا خطرہ ہوتو ایسی صورت میں بھی بچوں کو مردوں کی صف میں بھی کھڑا کرسکتے ہیں۔
نیزواضح رہے کہ ایسے نابالغ بچے جو مسجد کے آداب اور پاکی و ناپاکی کا خیال رکھنے کی تمیز نہیں رکھتے ان کو تو مسجدمیں لانا جائز نہیں۔

حوالہ جات

*سنن ابی داؤد:(رقم الحدیث677،ط:دارالرسالة العالمیة)*
قال أبومالک الأشعري: ألا أحدثکم بصلاۃ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: فأقام الصلاۃ، وصف الرجال وصف خلفہم الغلمان ثم صلی بہم.

*الدرالمختار:(571/1،ط:دارالفکر)*
ویصف أي یصفہم بأن یأمرہم بذلک الرجال ثم الصبیان ظاہرہ تعددہم فلو واحداً دخل الصف.

*تقريرات الرافعي :(1/73،ط:مكتبۂ رشیدیہ)*
(قوله ذكره فى البحر بحثا ) قال الرحمتى ربما يتعين في زماننا إدخال الصبيان في صفوف الرجال لان المعهود منهم إذا اجتمع صبيان فاكثر تبطل صلاة بعضهم بعض و ربما تعدى ضررهم إلى فساد صلاة الرجال اھ.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
70
فتوی نمبر 1313کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155