کاروبار میں منافع کی مقدار

فتوی نمبر :
1357
معاملات / مالی معاوضات /

کاروبار میں منافع کی مقدار

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ کاروبار میں کتنا منافع لینا جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کاروبار میں منافع کی مقدار شریعت نے مقرر نہیں کی ، جس مقدار پر معاملہ کرنے والے راضی ہوجائے وہی ادا کرنا اور وہی فروخت کنندہ کے لیے لینا جائز ہے ، بشرطیکہ ظلم و زیادتی سے کام نہ لیا جائے ۔
البتہ بہتر یہ ہے کہ مناسب منافع رکھے جائیں تاکہ کسی پر ظلم نہ ہو ، اور عام لوگوں کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھایا جائے ۔

حوالہ جات

السنن الكبير للبيهقي: (11/ 433 ، رقم الحديث : 11298، ط: مركز هجر للبحوث والدراسات )
عن ابن أبى حسين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "‌سيد ‌السلعة ‌أحق أن يستام".

الدرالمختار : (6/ 399، ط: دارالفكر)
(ولا يسعر حاكم) لقوله عليه الصلاة والسلام لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق (إلا إذا تعدى الأرباب عن القيمة تعديا فاحشا فيسعر بمشورة أهل الرأي) .

الهندية: (3/ 161، ط: دارالفكر)
‌اشترى ‌متاعا ورقم بأكثر من ثمنه فباعه مرابحة على الرقم جاز ولا يقول قام علي بكذا.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
37
فتوی نمبر 1357کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --