کھانے پینے کے آداب

مکڈونلڈ ہوٹل میں کھاناکھانے کا حکم

فتوی نمبر :
1364
آداب / آداب زندگی / کھانے پینے کے آداب

مکڈونلڈ ہوٹل میں کھاناکھانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ موجودہ مکڈونلڈ ہوٹل میں کھاناکھانا جائز ہے ؟ میں نے سنا ہے کہ اس کے کھانے میں حرام اشیا ء کی ملاوٹ ہوتی ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مکڈونلڈ کے برابچ کا مالک اگر مسلمان ہے اور اس برانچ کے کھانے میں حرام اشیاء کے ملاوٹ کا یقین بھی نہیں ہے تو اس میں صرف شک کی بناء پر کھانے کو حرام کہنا جائز نہیں ، لیکن اگر مکڈونلڈ کا مالک کوئی غیر مسلم ہو اور اس کے کھانے میں حرام اشیاء کی ملاوٹ یقینی ہو تو پھر وہاں کھانا کھانا جائز نہ ہوگا ۔
البتہ اس کی آمدن کے ذریعے فلسطین اور مسلمانوں کے دشمن اسرائیل کو قوت ملنے کی وجہ سے ایمانی غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ اس ہوٹل میں کھانے سے احتراز کیاجائے۔

حوالہ جات

الأصل لمحمد( 207، ط: دار ابن حزم )
"اليقين ‌لا ‌يزول ‌بالشك".

الأشباه والنظائر لابن نجيم: (ص47، ط: دار الكتب العلمية )
القاعدة الثالثة: اليقين ‌لا ‌يزول ‌بالشك.
الموسوعة الفقهية : (45/ 289، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
معنى هذه القاعدة أن ما ثبت بيقين ‌لا ‌يرتفع ‌بالشك، وما ثبت بيقين لا يرتفع إلا بيقين.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
56
فتوی نمبر 1364کی تصدیق کریں