السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے کیا کھانے کے بعد کوئی میٹھی چیز کھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ؟
ذرا وضاحت فرمائیں۔
احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو میٹھی اشیا پسند تھیں، حضرت عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا تناول فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کے آخر میں کھجور تناول فرمائی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کے آخر میں آپ ﷺ نے میٹھی چیز کھائی ہے، لیکن کھانے کے بعد باقاعدگی کے ساتھ میٹھا کھانے کا معمول صحیح روایت سے ثابت نہیں، لہذا ایک آدھ مرتبہ کھانے کے بعد میٹھی چیز تناول فرمانے کی بنا پر کھانے کے بعد میٹھے کو سنت نہیں کہاجائے گا۔
*سنن الترمذی:(427/3،رقم الحدیث:1848،ط:دار الغرب الإسلامي )*
حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا العلاء بن الفضل بن عبد الملك بن أبي سوية أبو الهذيل، قال: حدثنا عبيد الله بن عكراش ، عن أبيه عكراش بن ذؤيب قال: «بعثني بنو مرة بن عبيد» بصدقات أموالهم إلى رسول الله ﷺ، فقدمت عليه المدينة، فوجدته جالسا بين المهاجرين والأنصار، قال: ثم أخذ بيدي فانطلق بي إلى بيت أم سلمة، فقال: هل من طعام؟ فأتينا بجفنة كثيرة الثريد والوذر، وأقبلنا نأكل منها فخبطت بيدي من نواحيها، وأكل رسول الله ﷺ من بين يديه، فقبض بيده اليسرى على يدي اليمنى، ثم قال: يا عكراش، كل من موضع واحد؛ فإنه طعام واحد ثم أتينا بطبق فيه ألوان التمر أو من ألوان الرطب عبيد الله شك قال: فجعلت آكل من بين يدي وجالت يد رسول الله ﷺ في الطبق، وقال: يا عكراش، كل من حيث شئت؛ فإنه غير لون واحد ثم أتينا بماء فغسل رسول الله ﷺ يديه، ومسح ببلل كفيه وجهه وذراعيه ورأسه، وقال: يا عكراش، هذا الوضوء مما غيرت النار.
*فتح الباري:( 557/9،ط:المكتبة السلفية)*
ووقع في كتاب فقه اللغة للثعالبي أن حلوى النبي ﷺ التي كان يحبها هي المجيع بالجيم وزن عظيم، وهو ثمر يعجن بلبن، وسيأتي في باب الجمع بين لونين ذكر من روى حديث أنه كان يحب الزبد والتمر، وفيه رد على من زعم أن المراد بالحلوى أنه ﷺ كان يشرب كل يوم قدح عسل يمزج بالماء، وأما الحلوى المصنوعة فما كان يعرفها. وقيل المراد بالحلوى الفالوذج لا المعقودة على النار والله أعلم.