کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں ایک رواج چل پڑا ہے کہ بہت سارے لوگ ہر سال اپنے یا اپنے بچوں کے یوم پیدائش پر غیر مسلموں کی طرح برتھ ڈے تو نہیں مناتے ، لیکن امام صاحب کو گھر بلا کر دعا کا اہتما م کرتے ہیں اور اس دن کسی خاص کھانے کا بھی انتظام کرتے ہیں ، اس کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ یوم پیدا ئش پر محض خوشی مناناتو جائز ہے تاہم آج کل کے مروجہ خرافات معاصی اور غیر مسلموں کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے جائزنہیں ۔
پوچھی گئی صورت میں اگر سال میں کسی دن اللہ تعالیٰ کے شکرانہ کے طور پر دعا ودعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے تو ا س میں کوئی حرج نہیں ، البتہ اس کو لازم سمجھنا اور اور اس کے لیے ایک ہی دن مخصوص کرنے سے یہ بدعت کے زمرے میں شامل ہوجانے کی وجہ جائز نہ ہوگا ۔
القرأن الكريم : [آل عمران:/3 85]
وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِينٗا فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ.
سنن الترمذي (4/ 425، رقم الحديث : 2695، ط: دار الغرب الإسلامي )
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه ، عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ليس منا من تشبه بغيرنا، لا تشبهوا باليهود ولا بالنصارى، فإن تسليم اليهود الإشارة بالأصابع، وتسليم النصارى الإشارة بالأكف.
الموسوعة الفقهية :(12/ 5، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
ذهب الحنفية على الصحيح عندهم، والمالكية على المذهب، وجمهور الشافعية إلى: أن التشبه بالكفار في اللباس - الذي هو شعار لهم به يتميزون عن المسلمين - يحكم بكفر فاعله ظاهرا، أي في أحكام الدنيا.