میں ایک جگہ گاڑی میں گیا تھا، میرے ساتھ میری ایک چھوٹی بیٹی بھی گاڑی میں تھی۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے گاڑی کے دروازے بند (لاک) کر دیے اور اپنی بیٹی کو گاڑی میں ہی بھول گیا، کچھ وقت بعد جب یاد آیا تو فوراً گاڑی کے پاس آیا، دیکھا کہ وہ شدید گرمی، گھٹن اور رونے کی وجہ سے فوت ہو چکی تھی۔سوال یہ ہے کہ:کیا اس صورت میں شرعاً مجھ پر دیت، کفارہ یا گناہ لازم ہے یا نہیں؟
پوچھی گئی صورت میں آپ نے اپنی بچی کو غلطی سے گاڑی میں بند کیا اور گرمی یا گھٹن کی وجہ سے وہ فوت ہوگئی تو یہ قتلِ خطا کے حکم میں ہے، ایسی صورت میں شرعاً دیت اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔
کفارے کے طور پر آپ کو مسلسل ساٹھ روزے رکھنے پڑیں گے، البتہ دیت کی ادائیگی آپ کی ’’عاقلہ‘‘ کے ذمہ ہے، یہ دیت تین سال کی مدت میں لازم ہوگی، عاقلہ سے مراد:عاقلہ کا مدار باہمی تعاون پر ہے، آج کے دور میں یہ جماعتوں یا تنظیموں کی صورت میں ہو سکتی ہے، اگر قاتل کسی تنظیم سے وابستہ ہو تو وہی اس کی عاقلہ ہے اور اگر نہ ہو تو اس کے عصبات بیٹے، باپ، بھائی، بھتیجے،چچا اور چچازاد بھائی عاقلہ ہوں گے۔
*القرآن الکریم:(النساء:92:4)*
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ۚ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا.
*الهندية:(3/6،ط: دارالفكر)*
والخطأ على نوعين: خطأ في القصد وهو أن يرمي شخصا يظنه صيدا فإذا هو آدمي أو يظنه حربيا فإذا هو مسلم وخطأ في الفعل وهو أن يرمي غرضا فيصيب آدميا كذا في الهداية وموجب ذلك الكفارة والدية على العاقلة، وتحريم الميراث وسواء قتل مسلما، أو ذميا في وجوب الدية والكفارة، ولا مأثم فيه في الوجهين سواء كان خطأ في القصد، أو خطأ في الفعل هكذا في الجوهرة النيرة.
*الدر المختار:(697/1،ط:دار الكتب العلمية)*
و) الثالث (خطأ وهو) نوعان: لانه إما خطأ في ظن الفاعل ك (أن يرمي شخصا ظنه صيدا ......(وموجبه) أي موجب هذا النوع من الفعل وهو الخطأ وما جرى مجراه (الكفارة والديةعلى العاقلة) والاثم دون إثم القتل، إذا الكفارة تؤذن بالاثم لترك العزيمة.