آپ ﷺ اور علم غیب

فتوی نمبر :
1420
عقائد / /

آپ ﷺ اور علم غیب

حضرت مفتی صاحب !
حضرت محمد ﷺ کو علم غیب عطاء کیا گیا تھا توا س وقت آپ ﷺ کی عمر مبارک کیا تھی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو علم غیب حاصل تھا اور نہ ہی ہوگا ، ہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو کچھ ایسی باتیں بتلادی تھی جو پردۂ غیب میں تھی انہیں باتوں کو اخبار غیب کہا جا تا ہے ، لہذا اس تمہید سے معلوم ہوا کہ علم غیب الگ چیز ہے اور اخبار غیب الگ ،لیکن سمجھ اور علم نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے اخبار غیب کو علم غیب سمجھ کر نعوذ باللہ آپ ﷺ کو عالم الغیب کہنا شروع کردیا جو کہ بالکل غلط اور قرآن کریم کے آیات مبارکہ کے خلاف ہے ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم :[الأنعام:/6 50]
قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ إِنِّي مَلَكٌۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّۚ .

(النبراس: ص:343، ط: تھانوی- دیوبند)
"والتحقیق أن الغیب ما غاب عن الحواس، والعلم الضروري ، والعلم الاستدلالی، وقد نطق القرآن بنفي علمه عمن سواہ تعالیٰ ... وأما ما علم بحاسة، أو ضرورۃ، أو دلیل، فلیس بغیب، ... و بھٰذا التحقیق اندفع الإشکال في الأمور اللتي یزعم أنھا من الغیب، ولیست منھا، لکونھا مدرکةً بالسمع أو البصر، أو الضرورۃ، أو الدلیل، فأحدها أخبار الأنبیاء، لأنھا مستفاد من الوحي، و من خلق العلم الضروري فیھم، أو من انکشاف الکوائن علی حواسھم."

الدرالمختارمع رد المحتار: (3/ 27، ط: دارالفكر)
تزوج بشهادة الله ورسوله لم يجز، بل قيل يكفر، والله أعلم.
(قوله: قيل بكفر) ‌لأنه ‌اعتقد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم عالم الغيب قال في التتارخانية: وفي الحجة ذكر في الملتقط أنه لا يكفر لأن الأشياء تعرض على روح النبي صلى الله عليه وسلم وأن الرسل يعرفون بعض الغيب قال تعالى - {عالم الغيب فلا يظهر على غيبه أحدا} [الجن: 26] {إلا من ارتضى من رسول} [الجن: 27]-. اهـ. قلت: بل ذكروا في كتب العقائد أن من جملة كرامات الأولياء الاطلاع على بعض المغيبات وردوا على المعتزلة المستدلين بهذه الآية على نفيها بأن المراد الإظهار بلا واسطة، والمراد من الرسول الملك أي لا يظهر على غيبه بلا واسطة إلا الملك، أما النبي والأولياء فيظهرهم عليه بواسطة الملك أو غيره، وقد بسطنا الكلام على هذه المسألة في رسالتنا المسماة [سل الحسام الهندي لنصرة سيدنا خالد النقشبندي] .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
38
فتوی نمبر 1420کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155