قعدہ آخیرہ کے بعد بھول کرکھڑے ہونے والے شخص کی نماز کا حکم

فتوی نمبر :
1432
عبادات / نماز /

قعدہ آخیرہ کے بعد بھول کرکھڑے ہونے والے شخص کی نماز کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ا س مسئلہ کےبارے میں کہ ایک شخص چار رکعت والی نماز میں قعدہ آخیرہ میں بیٹھنے کے بعد بھولے سے کھڑا ہوجائے اور مزید دو رکعت اور پڑھ لے تواس کی نماز کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص قعدہ آخیرہ میں تشہد کےمقدار بیٹھ جائے اور اس کے بعد وہ بھول کر کھڑا ہو ، اور مزید دورکعت پڑھ لے تو یہ شخص آخر میں سجدہ سہو کرلے اس کی نماز درست ہوجائے گی ، اور اس کے چار رکعت فرض اور دو نقل شمار ہوں گے ۔
البتہ اگر قعدہ آخیرہ میں تشہد کے مقدار نہیں بیٹھا اور مزید دو رکعت پڑھ لی تو اس صورت میں فرض (قعدہ آخیرہ) چھوٹنے کی وجہ سے اس کی نماز درست نہیں ہوگی ، بلکہ اس کا اعادہ کرنا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (2/ 87، ط: دارالفكر)
(وإن ‌قعد ‌في ‌الرابعة) مثلا قدر التشهد (ثم قام عاد وسلم) ولو سلم قائما صح؛ ثم الأصح أن القوم ينتظرونه، فإن عاد تبعوه (وإن سجد للخامسة سلموا) لأنه تم فرضه، إذ لم يبق عليه إلا السلام (وضم إليها سادسة) لو في العصر، وخامسة في المغرب: ورابعة في الفجر به يفتى (لتصير الركعتان له نفلا) والضم هنا آكد، ولا عهدة لو قطع، ولا بأس بإتمامه في وقت كراهة على المعتمد (وسجد للسهو).

الهندية: (1/ 129، ط: دارالفكر)
رجل ‌صلى ‌الظهر ‌خمسا وقعد في الرابعة قدر التشهد إن تذكر قبل أن يقيد الخامسة بالسجدة أنها الخامسة عاد إلى القعدة وسلم، كذا في المحيط ويسجد للسهو، كذا في السراج الوهاج وإن تذكر بعدما قيد الخامسة بالسجدة أنها الخامسة لا يعود إلى القعدة ولا يسلم بل يضيف إليها ركعة أخرى حتى يصير شفعا ويتشهد ويسلم، هكذا في المحيط. ويسجد للسهو استحسانا، كذا في الهداية وهو المختار.

البحر الرائق : (2/ 113، ط: دارالكتاب الاسلامي )
(قوله وإن سجد للخامسة تم فرضه وضم إليه سادسة) أي لم يفسد فرضه بسجوده كما فسد فيما إذا لم يقعد هذا هو المراد بالتمام وإلا فصلاته ناقصة كما سيأتي وإنما لم يفسد لأن الباقي أصابه لفظ السلام وهي واجبة وإنما يضم إليها أخرى لتصير الركعتان له نفلا للنهي عن الركعة الواحدة وإذا ضم فإنه يتشهد ويسلم ثم يسجد للسهو كما سيأتي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
52
فتوی نمبر 1432کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --