مسائل قربانی

صاحب نصاب شخص کے پاس نقدی نہ ہونے کی صورت میں قربانی کا حکم

فتوی نمبر :
1438
عبادات / قربانی و ذبیحہ / مسائل قربانی

صاحب نصاب شخص کے پاس نقدی نہ ہونے کی صورت میں قربانی کا حکم

اگر کوئی شخص مالی نصاب کا مالک ہو یعنی صاحبِ نصاب ہو، لیکن فی الوقت اس کے پاس قربانی کے لیے رقم موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ کس طرح قربانی ادا کرے گا؟
اور دوسرا یہ کہ قربانی کے دوسرے اور تیسرے دن کی قربانی کا ثواب پہلے دن کے برابر ہوتا ہے یا اس میں فرق ہے؟
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱)واضح رہے کہ اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہو، لیکن اس کے پاس قربانی کرنے کے لیے نقدی موجود نہ ہو تو کسی سے قرض لے کر قربانی کرنا ضروری ہے۔
۲) عید الاضحی کے تینوں دن قربانی کرنا جائز ہے، البتہ پہلے دن قربانی کرنا زیادہ افضل ہے ۔

حوالہ جات

*الشامیة: (6/ 312،ط: دارالفکر)*
وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)۔۔۔(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم.

*الهندية: (1/ 191،ط: دارالفکر)*
وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان".

*البحر الرائق: (8/ 200،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
ووقتها ‌ثلاثة ‌أيام ‌أولها ‌أفضلها، ويجوز الذبح في لياليها إلا أنه يكره لاحتمال الغلط في الظلمة وأيام النحر ثلاثة..

*درر الحكام شرح غرر الأحكام:(1/ 268،ط: دار إحياء الكتب العربية)*
(قوله: اعلم أن أيام النحر ثلاثة) لكن ‌أفضلها ‌أولها ‌وأدونها ‌آخرها كما في قاضي خان.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
44
فتوی نمبر 1438کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --