مسائل قربانی

قربانی کرنے والے شخص کابال اور ناخن کاٹنا

فتوی نمبر :
580
عبادات / قربانی و ذبیحہ / مسائل قربانی

قربانی کرنے والے شخص کابال اور ناخن کاٹنا

اگر کوئی شخص قربانی کا ارادہ کرے تو کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ جب ذی الحجہ کا چاند نظرآجائے تواپنے بال اور ناخن نہ کاٹے ؟ اور اگر کوئی چاند نظر آجانے کے بعد اپنے بال اور ناخن کاٹ دیتا ہے تو کیااس کے لیے جائز ہے اس کی قربانی ہوجائے گی ؟
براہ کرم ! رہنمائی فرمائیں اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عیدالاضحیٰ کا چاند نظر آجانے کے بعد قربانی کرنے والے کے لیے ناخن اور بال نہ کاٹنا مستحب عمل ہے ، البتہ اگر کسی نے کاٹ لیے تواس سے قربانی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔

حوالہ جات

صحيح مسلم: (6/ 83، ط: دار طوق النجاة )
عن أم سلمة ترفعه قال: « ‌إذا ‌دخل ‌العشر وعنده أضحية يريد أن يضحي، فلا يأخذن شعرا ولا يقلمن ظفرا .

الدرالمختار : (6/ 312، ط: دارالفكر)
«وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) ‌وجوب (‌صدقة ‌الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى) خانية (وسببها الوقت) وهو أيام النحر ... وقيل الرأس وقدمه في التتارخانية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
77
فتوی نمبر 580کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --