نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے سورت پڑھنا

فتوی نمبر :
1466
عبادات / نماز /

نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے سورت پڑھنا

اگر کوئی نمازی اُس رکعت میں، جس میں سورۂ فاتحہ اور اس کے بعد کوئی اور سورت پڑھنا واجب ہے، سورۂ فاتحہ سے پہلے کوئی دوسری سورت یا چند آیات پڑھ لے اور بعد میں اُسے یاد آئے تو کیا کرے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نماز میں پہلے سورۂ فاتحہ اور اس کے بعد کوئی سورت پڑھنا واجب ہے، اگر کسی نے غلطی سے پہلے سورت پڑھ لی اور بعد میں یاد آیا تو سجدہ سہو واجب ہوگا، البتہ فرض نماز کی تیسری یا چوتھی رکعت میں اگر سورۂ فاتحہ کی جگہ غلطی سے کوئی سورت یا آیت پڑھ لی جائے تو بھی سجدہ سہو لازم نہیں۔

حوالہ جات

*الهندية:(71/1،ط: دارالفكر)*
ويجب تقديم الفاتحة على السورة. كذا في النهر الفائق.إذا نسي الفاتحة في الركعة الأولى أو الثانية وقرأ السورة ثم تذكر فإنه يبدأ بفاتحة الكتاب ثم يقرأ السورة وهو ظاهر الرواية. هكذا في المحيط.

*مراقي الفلاح:(94/1،ط:المكتبة العصرية)*
يجب»تقديم الفاتحة على«قراءة»السورة«للمواظبة حتى لو قرأ من السورة ابتداء فتذكر يقرأ الفاتحة ثم يقرأ السورة ويسجد للسهو كما لو كرر الفاتحة ثم قرأ السورة».

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
83
فتوی نمبر 1466کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --