نام رکھنے کا حکم

ذوہان اور ذوحان نام رکھنا

فتوی نمبر :
1512
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

ذوہان اور ذوحان نام رکھنا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب!!رہنمائی فرمائیں ذوحان اور ذوہان کے کیا معنیٰ ہیں؟اور شرعاً یہ نام رکھنا کیسا ہے؟
والسلام جزاکم اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ذوہان لفظ لغت میں موجود نہیں، البتہ ذوحان عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے تیز چلنا، سختی سے چلنا،اس لیے یہ نام رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے،لیکن بہتر یہ ہے کہ انبیائے کرام ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے، کیونکہ حدیث شریف میں اچھے نام رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے ۔

حوالہ جات

*مسندبزار:(رقم الحدیث:8540:مكتبةالعلم والحكم)*
عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن من ‌حق ‌الولد ‌على ‌الوالد أن يحسن اسمه ويحسن أدبه.

*تاج العروس:(379/6،ط:دار إحياء التراث)*
(و) ﴿الذوح: (جمع الغنم ونحوها) كالإبل. يقال:﴾ ذاح الإبل ﴿يذوحها﴾ ذوحا: جمعها وساقها سوقا عنيفا. ولا يقال ذالك في الإنس، إنما يقال في المال إذا حازه. وذاحت هي: سارت سيرا عنيفا.

*الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية:(363/1،ط:دار العلم للملايين)*
الذوح: السير العنيف. قال الهذلي (٢) يصف ضبعا نبشت قبرا: فذاحت بالوتائر ثم بدت * يديها عند جانبه تهيل.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
64
فتوی نمبر 1512کی تصدیق کریں