نام رکھنے کا حکم

مسکان اور علینہ نام رکھنا

فتوی نمبر :
636
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

مسکان اور علینہ نام رکھنا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بچوں کے نام مسکان اورعلینہ رکھ سکتے ہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مسکان کامعنی ہے’’تبسم اور مسکراہٹ‘‘ اور علینہ کا معنی ہے ’’واضح اور ظاہر‘‘لہذا یہ دونوں نام رکھنا جائز ہے ،تاہم بہتر یہ ہے کہ ازواجِ مطہرات اور صحابیات کے بابرکت ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے،کیونکہ نام کا انسان کی شخصیت پر بڑا اثر ہوتاہے۔

حوالہ جات

سنن أبي داود:(7/ 303 ،رقم الحديث:4948،ط:دارالرسالة العالمية)
عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنكم ‌تدعون ‌يوم ‌القيامة ‌باسمائكم وأسماء آبائكم، فاحسنوا أسماءكم".

مسند البزار:(15/ ،ط: مكتبة العلوم والحكم)
عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن من حق الولد على الوالد ‌أن ‌يحسن ‌اسمه ويحسن أدبه.

المعجم الوسيط:(2/ 624،ط: دار الفكر)
(‌علن)
الْأَمر علونا شاع وَظهر وَخلاف خَفِي
(‌علن) الْأَمر علنا وَعَلَانِيَة ‌علن فَهُوَ ‌علن وعلين.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
72
فتوی نمبر 636کی تصدیق کریں