السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! میں نے فریزر کے لیے یونیورسل کمپنی کا اسٹپلیزر خریدا تھا اور ایک سال استعمال بھی کیا ہے، ایک دوست نے کہا کہ یہ قادیانیوں کا ہے،اب اس کے بارے میں تشویش اور پریشانی لاحق ہے کہ کیا کروں؟ اسے توڑ دوں، ندی میں پھینک دوں یا کسی کو بیچ دوں؟ رہنمائی فرمائیں۔
قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ ایمانی غیرت کا تقاضا ہے، اگر کسی نے لاعلمی میں ایسی چیز خرید لی ہو تو بہتر ہے کہ اگر استطاعت ہو تو اسے ضائع کر دے، تاکہ دل میں ان کی قباحت باقی رہے، البتہ اگر چاہے تو بیچنے کی اجازت بھی ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ نے قادیانی یونیورسل اسٹبلائزر خریدا ہے تو ضائع کرنا افضل ہے، تاہم بیچنا بھی جائز ہے۔
القرآن الکریم:( المائدة:2:)
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ.
*کفایت المفتی:(325/1،ط: دارالاشاعت)*
"اگر دین کو فتنے سے محفوظ رکھناچاہتے ہو تو(قادیانیوں سے ) قطع تعلق کرلینا چاہیے، ان سے رشتہ ناتا کرنا، ان کے ساتھ خلط ملط رکھنا، جس کا دین اورعقائد پر اثر پڑے ناجائز ہے، اور قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا رکھنا خطرناک ہے۔