حنفی مقتدی کے لیے شافعی امام کے پیچھے قنوت نازلہ میں حکم

فتوی نمبر :
1525
عبادات / نماز /

حنفی مقتدی کے لیے شافعی امام کے پیچھے قنوت نازلہ میں حکم

مفتی صاحب!
ہم فجر کی نماز شافعی مسلک امام کے پیچھے پڑھتے ہیں تو وہ قنوت نازلہ پڑھتے ہیں تو کیا ہم آمین کہیں یا خاموش رہنا چاہیے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

احناف کے نزدیک عام حالات میں فجر کی نماز میں قنوت پڑھنا سنت نہیں، بلکہ صرف مصیبت یا ابتلاء کے وقت قنوتِ نازلہ پڑھنا جائز ہے، اگر حنفی مقتدی کسی ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھے جو فجر میں رکوع کے بعد قنوت پڑھتا ہے تو مقتدی خاموش کھڑا رہے کچھ نہ کہے اور امام کی متابعت نماز کے دیگر ارکان میں کرے ۔

حوالہ جات

*الدر المختار:(8/2،ط: دارالفكر)*
(ويأتي المأموم بقنوت الوتر) ولو بشافعي يقنت بعد الركوع لأنه مجتهد فيه (لا الفجر) لأنه منسوخ (بل يقف ساكتا على الأظهر) مرسلا يديه.

*الشامية:(8/2،ط: دارالفكر)*
(قوله ويأتي المأموم إلخ) هذا من المسائل الخمس الآتية التي يفعلها المؤتم إن فعلها الإمام، وما مشى عليه المصنف تبعا للكنز هو المختار كما في البحر عن المحيط. وعبارة المحيط كما في الحلية قال أبو يوسف: يسن أن يقرأ المقتدي أيضا، وهو المختار، لأنه دعاء كسائر الأدعية. وقال محمد: لا يقرأ بل يؤمن لأن له شبهة القرآن احتياطا اهـ. وهو صريح في أنه سنة للمقتدي لا واجب، إلا أن يكون مبنيا على ما مر عن البحر من أن القنوت سنة عندهما.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
37
فتوی نمبر 1525کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --