تفریق و تنسیخ

رخصتی سے پہلے میاں بیوی میں صلح ممکن نہ ہو تو کیا کریں؟

فتوی نمبر :
1528
معاملات / احکام طلاق / تفریق و تنسیخ

رخصتی سے پہلے میاں بیوی میں صلح ممکن نہ ہو تو کیا کریں؟

السلام علیکم مفتی صاحب! کیا حال ہے خیریت سے ہیں ؟
ایک مسئلہ معلوم کرناہے ایک لڑکے کی منگنی ہوئی اور منگنی کے وقت نکاح بھی ہوا اور جس سے منگنی ہوئی وہ لڑکی بالغ ہے اور اس کے ماں باپ بھی راضی ہیں اور منگنی کے وقت نکاح بھی پڑھا ہے تو بعد میں جب رخصتی کا وقت آ جاتا ہے تو لڑکی اب کہتی ہے کہ میں اس گھر میں نہیں رہتی اور یہ جو میرا شوہر ہے مجھے پسند نہیں ہے اور قسم کھا کر کہتی ہے کہ میں اس گھر میں بالکل نہیں جاتی اور منگنی کے وقت نکاح ہو چکا ہے تو اب وہ لڑکی کہتی ہے کہ میں تھانہ جاؤں گی اگر اس گھر میں مجھے بھیجا گیا یا میں خودکشی کر لوں گی لیکن اس گھر میں کسی طریقے سے میں رہنا نہیں چاہتی اور نکاح جو ہے وہ چونکہ اس وقت جس وقت منگنی ہو رہی تھی وہ بالغ بھی تھی اور اس کے ماں باپ بھی راضی تھے یہ خود بھی راضی تھی اور اب ماں باپ کہتے ہیں کہ ہم وہاں نہیں دیتے اور لڑکی بھی کہتی ہے کہ مجھے وہاں رہنا نہیں ہے تو اب رخصتی کا وقت ہے تو اس کا کیا حکم ہے نکاح تو ہو چکا ہے، لڑکا طلاق دے گا؟ شریعت میں اس کا کیا حکم ہے لڑکی کو کسی طرح راضی کیا جائے؟ وہ راضی نہیں ہو رہی ہے ۔ جزاک اللہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں اگر منگنی کے وقت شرعی طریقے سے نکاح کیا گیا تھا، یعنی دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کیا گیا تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہوگیا اور لڑکا لڑکی آپس میں میاں بیوی ہیں، اگرچہ رخصتی نہیں ہوئی، اگر لڑکی شوہر کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں تو پہلے خاندان کے بڑے، لڑکی اور اس کے والدین کو نرمی سے سمجھائیں اور اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں، لیکن اگر لڑکی کسی طرح سے رخصتی پر راضی نہیں تو پھر بہتر ہے کہ شوہر خوش اسلوبی سے طلاق دے دے، اگر وہ طلاق نہیں دینا چاہتا تو لڑکی خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

حوالہ جات

*الشامية:(228/3،ط: دارالفكر)*
وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه ، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر ، والإباحة للحاجة إلى الخلاص ، فإذا كان بلا سبب أصلاً لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقاً وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها ، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى ، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة ، كما قيل ، بل هي أعم كما اختاره في الفتح فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعاً يبقى على أصله من الحظر ، ولهذا قال تعالى : ﴿ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلاً ﴾ (النساء : 34) أي لا تطلبوا الفراق ، وعليه حديث: « أبغض الحلال إلى الله عز وجل الطلاق»۔ قال في الفتح: ويحمل لفظ المباح على ما أبيح في بعض الأوقات، أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اھ."

*فتح القدير للكمال ابن همام:(472/3،ط:دار الفكر)*
الأصل في الطلاق هو الحظر لما فيه من قطع المصالح الدينية والدنيوية والأدلة السمعية التي ذكرناها، وإنما يباح للحاجة إلى الخلاص من المفاسد التي قد تعرض في الدين والدنيا فيعود على موضوعه بالنقض.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
42
فتوی نمبر 1528کی تصدیق کریں