السلام علیکم مفتی صاحب ! مجھے یہ جاننا ہے کہ ایک مسلمان کا نکاح کن کن وجوہات سے ٹوٹ جاتا ہے ؟اور پھر ٹوٹنے کے بعد کیسے اور کیا کرنا پڑتا ہے ؟اورپھر اس نکاح کے واپسی کا راستہ بھی بتائیں ۔
براہ کرم ! پوری طرح سمجھاکر بتائیں ۔
نکاح ایک مبارک اور مسنون عمل ہے جو دوبندوں (مرد وعورت) کے باہمی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول سے منعقد ہوتا ہے اور پھریہ دونوں اس نکاح کے بندھن میں تاحیات رہتے ہیں تاہم زندگی میں کبھی ایسے مواقع بھی آتے ہیں جہاں یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے اس کی تفصیل حسب ذیل ہے :
۱۔ میاں بیوی میں سے کوئی ایک دین اسلام سے مرتد ہوجائے (نعوذباللہ)
۲۔ عورت اپنے شوہر سے خلع(مال دے کر طلاق ) لے ۔
۳۔ مرد اپنی بیوی کو طلاق بائن دے دے ۔
اس رشتہ کو دوبارہ سے جوڑنے کے لیے از سر نو نیانکاح دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ ایجاب وقبول سے ہوگا وہ بھی اس شرط پر کہ شوہر نے تین طلاقیں نہ دی ہو اگر تین طلاقیں دی ہے تو پھر وہ عورت حلالہ(کسی اور جگہ شادی کرلے اور نئے شوہر سے جنسی تعلق قائم کرلے پھر وہ طلاق دے یا فوت ہوجائے اور عورت اس کی عدت سے فارغ ہوجائے )کے بغیر نیا نکاح ان کا آپس میں منعقد نہیں ہوگا ۔
الدرالمختار:(3/ 409، ط:دارالفكر)
(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) .
الهندية:(1/ 338، ط:دارالفكر)
ولو أسلم أحد الزوجين عرض الإسلام على الآخر فإن أسلم وإلا فرق بينهما كذا في الكنز... ارتد أحد الزوجين عن الإسلام وقعت الفرقة بغير طلاق في الحال قبل الدخول وبعده .
الهداية : (2/ 261، ط: دار احياء التراث العربي )
وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به " لقوله تعالى: {فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ} .