مفتی صاحب!
صفوں کے درمیان اتصال کے لیے کتنا قریب ہونا ضروری ہے مسجد کے اندر بھی اور باہر میدان وغیرہ میں جیسے اجتماع گاہ،مصلی وغیرہ ؟
اقتدا کے صحیح ہونے کے لیے امام اور مقتدی کی جگہ ایک ہونا ضروری ہے، چاہے حقیقتاً ہو یا حکماً، مسجداورمسجد کا صحن ایک ہی حکم رکھتے ہیں، اس لیے اگر ان کے درمیان دو صفوں کے برابر فاصلہ بھی ہو تو نماز صحیح ہے، البتہ بلا ضرورت فاصلہ چھوڑنا مکروہ ہے۔
اگر نماز مسجد کے باہر ہورہی ہو تو درمیان میں بڑا روڈ، کشتی کے گزرنے کے قابل نہر، یا بڑا حوض ہو تو یہ رکاوٹیں اتصال کو ختم کردیتی ہیں اور ایسی صورت میں اقتدا درست نہیں ہوتی۔
مسجد سے باہر، مثلاً میدان یا صحرا میں جماعت کے وقت صفوں کا متصل ہونا لازمی ہے اور اگر امام و مقتدی کے درمیان دو صفوں (تقریباً آٹھ فٹ) کا یا اس سے زیادہ فاصلہ ہو تو اقتدا صحیح نہیں ہوگی۔
*الدر المختار:(549/1،ط: دارالفكر)*
والصغرى ربط صلاة المؤتم بالإمام بشروط عشرة: نية المؤتم الاقتداء، واتحاد مكانهما وصلاتهما.
*الشامية:(550/1،ط: دارالفكر)*
(قوله واتحاد مكانهما) فلو اقتدى راجل براكب أو بالعكس أو راكب براكب دابة أخرى لم يصح لاختلاف المكان؛ فلو كانا على دابة واحدة صح لاتحاده كما في الإمداد، وسيأتي.
وأما إذا كان بينها حائط فسيأتي أن المعتمد اعتبار الاشتباه لا اتحاد المكان، فيخرج بقوله وعلمه بانتقالاته، وسيأتي تحقيق هذه المسألة بما لا مزيد عليه.
*بدائع الصنائع:(145/1،ط: دارالكتب الإسلامي)*
(ومنها) - اتحاد مكان الإمام والمأموم، ولأن الاقتداء يقتضي التبعية في الصلاة، والمكان من لوازم الصلاة فيقتضي التبعية في المكان ضرورة، وعند اختلاف المكان تنعدم التبعية في المكان فتنعدم التبعية في الصلاة لانعدام لازمها؛ ولأن اختلاف المكان يوجب خفاء حال الإمام على المقتدي فتتعذر عليه المتابعة التي هي معنى الاقتداء، حتى أنه لو كان بينهما طريق عام يمر فيه الناس أو نهر عظيم لا يصح الاقتداء؛ لأن ذلك يوجب اختلاف المكانين عرفا مع اختلافهما حقيقة فيمنع صحة الاقتداء.
وأما النهر العظيم فما لا يمكن العبور عليه إلا بعلاج كالقنطرة ونحوها، وذكر الإمام السرخسي أن المراد من الطريق ما تمر فيه العجلة وما وراء ذلك طريقة لا طريق، والمراد بالنهر ما تجري فيه السفن، وما دون ذلك بمنزلة الجدول لا يمنع صحة الاقتداء.