مصارف زکوۃ و صدقات

مشترکہ گھر میں رہنے والی بھابھی کو زکوٰۃ دینے کا حکم

فتوی نمبر :
1539
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

مشترکہ گھر میں رہنے والی بھابھی کو زکوٰۃ دینے کا حکم

"السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب!
ایک دوست پوچھ رہا ہے کہ اس کا ایک بھائی بیمار ہے، مرگی کے مرض میں مبتلا ہے اور کمانے کے قابل نہیں، وہ بھائی اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ دوسرے بھائیوں کے گھر میں رہتا ہے،کیا یہ شخص اپنی بھابھی (یعنی بیمار بھائی کی بیوی) کو زکوٰۃ دے سکتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کی بھابھی مستحقِ زکاۃ ہیں تو آپ انہیں زکوٰۃ دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ دی ہوئی زکاۃ کو گھر کے مشترکہ خرچ میں شامل نہ کریں، تاکہ آپ کی دی ہوئی زکاۃ آپ کے اور آپ کے بچوں کے استعمال میں نہ آئے۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(التوبة9 :60)*
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ .

*المصنف لعبد الرزاق،رقم الحديث:7155،ط:المجلس العلمى)*
عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌تحل ‌الصدقة لغني، ولا لذي مرة سوي.

*الدر المختار: (347/2،ط: دارالفکر)*
(و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
39
فتوی نمبر 1539کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --