"السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب!
ایک دوست پوچھ رہا ہے کہ اس کا ایک بھائی بیمار ہے، مرگی کے مرض میں مبتلا ہے اور کمانے کے قابل نہیں، وہ بھائی اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ دوسرے بھائیوں کے گھر میں رہتا ہے،کیا یہ شخص اپنی بھابھی (یعنی بیمار بھائی کی بیوی) کو زکوٰۃ دے سکتا ہے یا نہیں؟
پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کی بھابھی مستحقِ زکاۃ ہیں تو آپ انہیں زکوٰۃ دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ دی ہوئی زکاۃ کو گھر کے مشترکہ خرچ میں شامل نہ کریں، تاکہ آپ کی دی ہوئی زکاۃ آپ کے اور آپ کے بچوں کے استعمال میں نہ آئے۔
*القرآن الکریم:(التوبة9 :60)*
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ .
*المصنف لعبد الرزاق،رقم الحديث:7155،ط:المجلس العلمى)*
عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تحل الصدقة لغني، ولا لذي مرة سوي.
*الدر المختار: (347/2،ط: دارالفکر)*
(و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان.