السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
میرے جاننے والے ہیں ان کی بہن کو شوہر نے کہا کہ "جب تم سو رہی تھیں تو میں نے تمہیں تین بار طلاق دے دی، جب وہ رونے لگی تو شوہر نے کہا کہ میں نے مذاق کیا ہے ،
پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ طلاق نافذ ہوئی یا نہیں؟
واضح ہو کہ طلاق کا اقرار کرنے سے قضاءً طلاق واقع ہو جاتی ہے، خواہ مذاق میں اقرار کیا ہو، یا جھوٹ بولا ہو۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اس عورت پر تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اور نکاح ختم ہوچکا ہے۔
واضح رہے کہ تین طلاقیں واقع ہونے کی صورت میں شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق نہیں رہتا اور نہ ہی عدت کے بعد وہ دونوں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، جب تک عورت کسی اور مرد سے نکاح نہ کرے اور اس کے ساتھ حقوقِ زوجیت ادا نہ کرے، پھر اگر دوسرا شوہر اسے طلاق دے دے یا وہ وفات پا جائے اور اس کی عدت مکمل ہو جائے تو اس کے بعد عورت اور پہلا شوہر دونوں کی رضا مندی سے، نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں، دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے۔
*القرأن الكريم: (البقرة2: 230)*
فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ .
*سنن الترمذي:(476/2،ط:دار الغرب الإسلامي)*
حدثنا قتيبة، قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل ، عن عبد الرحمن بن أردك ، عن عطاء ، عن ابن ماهك ، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: «ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح»، والطلاق، والرجعة.
*البحر الرائق: (كتاب الطلاق، 264/3، ط: دار الكتاب الإسلامي)*
لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا كذا في الخانية من الإكراه ومراده بعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة لما في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اه.وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة واستثنى في القنية من الوقوع قضاء ما إذا شهد قبل ذلك لأن القاضي يتهمه في إرادته الكذب فإذا أشهد قبله زالت التهمة.
*رد المحتار: (كتاب الطلاق، 236/3، ط: دار الفكر)*
في الخانية، ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اه. ويأتي تمامه.
*الهندية:(1/ 473، ط: دارالفكر)*
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية .