طلاق

طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1719
معاملات / احکام طلاق / طلاق

طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے کا حکم

زید کی دو بیویاں ہیں، ایک زینب ایک رقیہ، اب زید تیسری شادی بھی کرنا چاہتا ہے، لہٰذا بکر نے زید کے لیے لڑکی ڈھونڈی اور زید کو بتایا تو زید نے بکر کو کہا کہ لڑکی کے والد کو یہ بتانا کہ زید کی ایک ہی بیوی زینب ہے اور بولو کہ رقیہ کو طلاق دے دی ہے، حالانکہ زید نے رقیہ کو طلاق نہیں دی، اب زید کے اس حیلہ کی وجہ سے اور اس کے ان الفاظ کی وجہ سے رقیہ کو طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟
اگر طلاق ہوگئی تو کونسی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ طلاق کی جھوٹی خبر دینے سے قضاءً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زید کی بیوی رقیہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی، جس کا حکم یہ ہے کہ اگر عدت کے اندر رجوع کیا جائے تو نکاح برقرار رہتا ہے اور دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

حوالہ جات

*البحر الرائق شرح کنز الدقائق:(264/3،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا كذا في الخانية من الإكراه.

*العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (1/ 40،ط: دار المعرفة)*
(سئل) في ‌رجل ‌سئل ‌عن ‌زوجته فقال أنا طلقتها وعديت عنها والحال أنه لم يطلقها بل أخبر كاذبا فما الحكم؟

*ردالمحتار:(236/3،ط: دار الفکر*
ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ

*الهداية :(2/ 254،ط:دار احياء التراث العربي)*
وإذا طلق الرجل امرأته ‌تطليقة ‌رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض" لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها ".
(الجواب) : لا يصدق قضاء ويدين فيما بينه وبين الله تعالى وفي العلائي عن شرح نظم الوهبانية قال أنت طالق أو أنت حر وعنى به الإخبار كذبا وقع قضاء إلا إذا أشهد على ذلك. اهـ. وفي البحر الإقرار بالطلاق كاذبا يقع قضاء لا ديانة. اهـ. وبمثله أفتى الشيخ إسماعيل والعلامة الخير الرملي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
53
فتوی نمبر 1719کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --