جس موبائل میں قرآن کریم ہو اس میں فحش مواد دیکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
1584
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

جس موبائل میں قرآن کریم ہو اس میں فحش مواد دیکھنے کا حکم

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته!
امید ہے کہ تمام علمائے کرام خیریت سے ہوں گے۔
میرا ایک سوال ہے: اگر کوئی شخص ایسے موبائل فون میں، جس میں قرآنِ کریم یا دیگر دینی چیزیں موجود ہوں، فحش فلمیں یا گانوں کی ویڈیوز دیکھے، جن میں عورتوں کی تصویریں یا بال وغیرہ ظاہر ہوں اور وہ جانتا بھی ہو کہ یہ عمل قرآنِ کریم کی بے ادبی ہے، لیکن اس کی نیت قرآن کی توہین یا بے ادبی کا نہ ہو تو کیا ایسا شخص اسلام کے دائرے سے خارج ہو جاتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ موبائل وغیرہ میں فلم دیکھنا یا گانے سننا ناجائز اور حرام ہے، البتہ ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں، کیونکہ اس نے یہ کام قرآنِ کریم کی توہین کی نیت سے نہیں کیا، مگر یہ عمل گناہ کبیرہ اور بے ادبی ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔

حوالہ جات

*التفسیر المظہري:(248/7،ط: مكتبة الرشدية الباكستان)*
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ﴾ الآية.....قالت ‌الفقهاء ‌الغناء ‌حرام ‌بهذه ‌الآية ‌لكونه ‌لهو ‌الحديث.

*مرقاة المفاتيح:(3024/7،ط: دار الفكر)*
وعن جابر رضي الله تعالى عنه- قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (الغناء) : بكسر الغين ممدودا أي: التغني (ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع): يعني الغناء سبب النفاق ومؤد إليه.....وقال النووي في الروضة: غناء الإنسان بمجرد صوته مكروه وسماعه مكروه، وإن كان سماعه من الأجنبية كان أشد كراهة.

*رد المحتار:(546/1،ط:دار الفکر)*
أنه يجب على القارئ احترامه ‌بأن ‌لا ‌يقرأه ‌في ‌الأسواق ‌ومواضع ‌الاشتغال، فإذا قرأه فيها كان هو المضيع لحرمته، فيكون الإثم عليه دون أهل الاشتغال دفعا للحرج.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
22
فتوی نمبر 1584کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --