مفتی صاحب آپ کیسے ہیں؟ مفتی صاحب!
میری امی اور میرے ابو مجھے گھر کے باہر شاپر میں گند رکھنے پر مجبور کرتے ہیں، میں جب گھر والوں کو، امی کو کہتا ہوں کہ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے، گھر کے باہر گند دیکھ کر تو گھر والے کہتے ہیں کہ یہ ہمارے اپنے گھر کے باہر کی جگہ ہے، گھر میں جو چیزیں اکٹھی ہو جاتی ہیں فروٹ کے چھلکے سبزیوں کے چھلکے وغیرہ وغیرہ تو انہیں اپنے گھر کے باہر رکھنے کا گناہ ہے یا نہیں؟
میں گند کو دیکھ کر بہت تنگ ہوتا ہوں اور میں اگر باہر رکھتا ہوں تو میں گناہ گار ہوں گا یا نہیں؟
اسلام امن اور محبت کا درس دیتا ہے، کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی زبان، ہاتھ یا کسی اور ذریعے سے دوسرے کو تکلیف پہنچائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“
پوچھی گئی صورت میں گھر کے باہر کچرا رکھنے سے اگر لوگوں کو تکلیف ہو تو یہ گناہ کا باعث ہے ، لہذا آپ والدین کو محبت اور پیار سے سمجھائیں، تاکہ والدین کی نافرمانی بھی نہ ہو اور لوگوں کو بھی تکلیف دینے سے بچا جائے ۔
*صحيح البخاري:(103/8،رقم الحديث:6884،ط:دار طوق النجاة)*
حدثنا أبو نعيم: حدثنا زكرياء، عن عامر قال: سمعت عبد الله بن عمرو يقول: قال النبي ﷺ: «المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه.»
*وأيضاً:(12/8،ط: رقم الحديث: 6016،ط:دار طوق النجاة)*
حدثنا عاصم بن علي: حدثنا ابن أبي ذئب، عن سعيد، عن أبي شريح أن النبي ﷺ قال: «والله لا يؤمن والله لا يؤمن، والله لا يؤمن. قيل: ومن يا رسول الله؟ قال: الذي لا يأمن جاره بوايقه» .
*عمدة القاري:(77/23،ط:دار الفكر)*
حدثنا أبو نعيم حدثنا زكرياء عن عامر قال: سمعت عبد الله بن عمر ويقول: قال النبي ﷺ: (المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه) .مطابقته للترجمة من حيث إن ترك أذى المسلم باليد واللسان من جملة الانتهاء عن المعاصي، وأيضا قوله: (من هجر ما نهى الله عنه) من جملة الانتهاء عن المعاصي.