میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اکثر بیوی گھر میں اپنے شوہر کی چپل پہن لیتی ہے، کیا شوہر کی چپل گھر میں پہننا جائز ہے؟یا عورت کے لیے مردانہ چپل پہننا منع ہے؟
کچھ بزرگوں سے یہ بات سنی ہے کہ اگر بیوی شوہر کی چپل پہنے تو شوہر جسمانی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔
براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ۔
شریعت میں مرد و عورت کے ایک دوسرے کے جوتے یا چپل پہننے کی ممانعت اس صورت میں ہے جب اس سے مشابہت اختیار کرنا مقصود ہو، یا بلا ضرورت شوقیہ طور پر پہنے جائیں، کیونکہ احادیث میں اس طرح کی مشابہت پر سخت وعید آئی ہے۔
البتہ اگر مشابہت مقصود نہ ہو بلکہ کسی ضرورت کی بنا پر پہن لیے جائیں، مثلاً قریب میں عورت کے اپنے جوتے موجود نہ ہوں تو اس کی گنجائش ہے۔ اس کے باوجود عورت کو چاہیے کہ حتی الامکان اپنے ہی جوتے استعمال کرے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر بیوی بوقتِ ضرورت شوہر کی چپل پہن لے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ نظریہ کہ اس سے شوہر کو جسمانی بیماری لاحق ہو جاتی ہے، شرعاً اور عقلاً درست نہیں۔
*السنن الكبرى للنسائي:(297/8،رقم الحديث :9207، ط:مؤسسة الرسالة)*
أخبرنا محمد بن إبراهيم، عن بشر وهو ابن المفضل قال: حدثنا هشام، عن يحيى بن أبي كثير قال: حدثني عكرمة، عن ابن عباس، أن رسول الله ﷺ «لعن المخنثين من الرجال، المترجلات من النساء» وقال: «أخرجوهم من بيوتكم» فأخرج رسول الله ﷺ فلانا، وأخرج عمر فلانا "
*مرقاة المفاتيح:(2818/7،ط:دار الفكر)*
(وعن ابن عباس قال: لعن النبي ﷺ المخنثين): بفتح النون المشددة وكسرها، والأول أشهر أي المتشبهين بالنساء (من الرجال): في الزي واللباس والخضاب والصوت والصورة والتكلم وسائر الحركات والسكنات من خنث يخنث كعلم يعلم إذا لان وتكسر، فهذا الفعل منهي لأنه تغيير لخلق الله (والمترجلات): بكسر الجيم المشددة أي " المتشبهات بالرجال (من النساء): زيا وهيئة ومشية ورفع صوت ونحوها لا رأيا وعلما، فإن التشبه بهم محمود، كما روي أن عائشة رضي الله عنها كانت رجلة الرأي أي: رأيها كرأي الرجال على ما في النهاية. (وقال): أي خطابا عاما (أخرجوهم من بيوتكم): أي من مساكنكم ومن بلدكم، ففي شرح السنة: روي عن أبي هريرة «أن النبي ﷺ أتي بمخنث قد خضب يديه ورجليه بالحناء، فأمر به فنفي إلى البقيع»، ففي شرعة الإسلام الحناء سنة للنساء، ويكره لغيرهن من الرجال إلا أن يكون لعذر لأنه تشبه بهن اهـ.