تقریر کے دوران کھڑے ہوکر پانی پینے کا حکم

فتوی نمبر :
1629
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

تقریر کے دوران کھڑے ہوکر پانی پینے کا حکم

اگر تقریر کے دوران پانی پینا ہو تو اس کے لیے بیٹھنا ضروری ہو گیا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کھڑے ہوکر پانی پینے کی ممانعت اور جواز دونوں کے بارے میں احادیث موجود ہیں، اس لیے دونوں طرف کی احادیث کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فقہائے کرام نے یہ حکم بیان فرمایا ہے کہ اگر کوئی مجبوری ہو (مثلاً رش ہو یا جگہ کیچڑ والی ہو، یا بیٹھنے کے لیے جگہ میسر نہ ہو) تو کھڑے ہوکر پانی پینا بلا کراہت جائز ہے، لیکن بغیر کسی مجبوری کے کھڑے ہوکر پانی پینا اور اس کی عادت بنا لینا مکروہِ تنریہی (یعنی خلافِ ادب) ہے، لہذا تقریر کے دوران اگر آسانی سے بیٹھا جا سکتا ہو تو بیٹھ کر پانی پیاجائے۔

حوالہ جات


*عمدة القاري: (9/ 278،ط:دار إحياء التراث العربي)*
واعلم أنه ‌روي ‌في ‌الشرب ‌قائما أحاديث كثيرة. منها: النهي عن ذلك،...ومنها: إباحة الشرب قائما،...وقال النووي: إعلم أن هذه الأحاديث أشكل معناها على بعض العلماء، حتى قال فيها أقوالا باطلة، والصواب منها: أن النهي محمول على كراهة التنزيه، وأما شربه قائما فلبيان الجواز، ومن زعم نسخا فقد غلط، فكيف يكون النسخ مع إمكان الجمع، وإنما يكون نسخا لو ثبت التاريح فأنى له ذلك؟ وقال الطحاوي ما ملخصه: أنه صلى الله عليه وسلم أراد بهذا النهي الإشفاق على أمته، لأنه يخاف من الشرب قائما الضرر، وحدوث الداء، كما قال لهم: أما أنا فلا آكل متكئا. انتهى.

*الهندية: (5/ 341،ط:دارالفکر)*
ولا ‌بأس ‌بالشرب ‌قائما، ولا يشرب ماشيا ورخص للمسافرين، ولا يشرب بنفس واحد، ولا من فم السقاء والقربة؛ لأنه لا يخلو عن أن يدخل حلقه ما يضره، كذا في الغياثية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
31
فتوی نمبر 1629کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --