فوجی جوتوں پر مسح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1648
طہارت و نجاست / طہارت /

فوجی جوتوں پر مسح کرنے کا حکم

آرمی والے اکثر سرد علاقوں میں ڈیوٹی دیتے ہیں تو وہاں چمڑے کے جوتے استعمال کرتے ہیں ، اس سوال کا جواب تو مجھے مل چکا ہے کہ جوتوں میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟
اب میرا سوال یہ ہےکہ چمڑے کے جوتوں پر مسح کرنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایسی جرابیں جن میں مذکورہ شرائط پائی جائیں ان پر مسح کرنا جائز ہے:
1) جرابیں اتنی موٹی ہوں کہ ان میں سے پانی نہ چھنتا ہو۔
2) اتنی مضبوط ہوں کہ ان میں بغیر جوتے کے تین میل چلنا ممکن ہو۔
3) اتنی سخت ہوں کہ اپنی سختی کی وجہ سے پنڈلی پر خود قائم رہیں، کسی سہارے یا ربڑ کی ضرورت نہ ہو۔
پوچھی گئی صورت میں اگر ذکر کردہ شرائط فوجی جوتوں میں پائی جائیں تو ایسے جوتوں پر مسح کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

*الدرالمختارمع ردالمحتار:(1/ 261،ط:دارالفكر)*
(شرط مسحه) ثلاثة أمور: الأول (كونه ساتر) محل فرض الغسل (القدم مع الكعب)...،
(و) الثاني (كونه مشغولا بالرجل) ليمنع سراية الحدث، فلو واسعا فمسح على الزائد ولم يقدم قدمه إليه لم يجز ولا يضر رؤية رجله من أعلاه....،
(و) الثالث (كونه مما يمكن متابعة المشي) المعتاد (فيه) فرسخا.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
35
فتوی نمبر 1648کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --