ہماری ایک رشتے دار خاتون تھیں، ان کے آٹھ بچے ہیں، ان کے پاس 29 ایکڑ زمین تھی۔ وہ کہتی تھیں کہ یہ زمین میں اپنے بیٹے فاروق اور بیٹی کو دے کر جاؤں گی، لیکن وفات سے پہلے انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کو یہ زمین دے دی اور اس کے نام رجسٹری بھی کروا دی، اب اس کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ کسی بھی چیز کی ملکیت انسان کو اس وقت حاصل ہوتی ہے، جب وہ اس چیز کی قیمت ادا کرے یا کوئی اسے وہ ہدیہ کرے یا وراثت میں ملے، محض کاغذات میں نام لکھنے کی وجہ سے ملکیت حاصل نہیں ہوتی، جب تک اس چیز پر قبضہ نہ کرلیا جائے، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ عورت نے پلاٹ بڑے بیٹے کے نام محض رجسٹر کرایا تھا تو پورا پلاٹ اس عورت ہی کی ملکیت ہوگا، ان کے انتقال کے بعد یہ ان کا ترکہ ہوگا، جو ان کے تمام ورثا کو دیا جائے گا ، البتہ اگر مذکورہ زمین عورت نے اپنے بڑے بیٹے کو ہبہ کر کے اس کے قبضے میں دے کر ہر قسم کے تصرف کا اختیار دے دیا تھا اور یہ گواہوں سے ثابت ہو جائے تو پھر وہ بڑے بیٹے کی ملکیت ہوگا اور دیگر بہن بھائیوں کا اس میں حصہ نہیں ہوگا۔
*الدر المختار:(56/1،ط: دارالفكر)*
وركنها): هو (الايجاب والقبول) كما سيجئ.(وحكمها: ثبوت الملك للموهوب له عير لازم) فله الرجوع والفسخ (وعدم صحة خيار الشرط فيها) فلو شرطه صحت إن اختارها قبل تفرقهما، وكذا لو أبرأه صح الابراء وبطل الشرط.
*الشامية:(690/5،ط: دارالفكر)*
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها
أقول: قوله: جعلته باسمك، غير صحيح كما مر فكيف يكون ما هو أدنى رتبة منه أقرب إلى الصحة سائحاني.
*مجمع الانهر:(353/2،ط:دار إحياء التراث العربي)*
وتتم) الهبة (بالقبض الكامل)، ولو كان الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به لقوله عليه السلام: «لا تجوز الهبة إلا مقبوضة» والمراد هنا نفي الملك لا الجواز؛ لأن جوازها بدون القبض ثابت خلافا لمالك، فإن عنده ليس القبض بشرط الهبة.