مردہ اور میت

آبادی سے باہر ملی ہوئی لاش کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ مسلمان ہے یا کافر تو اس کا حکم

فتوی نمبر :
1666
عبادات / جنائز / مردہ اور میت

آبادی سے باہر ملی ہوئی لاش کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ مسلمان ہے یا کافر تو اس کا حکم

اگر کسی جگہ مسلمانوں کو کوئی لاش ملے اور معلوم نہ ہو کہ یہ مسلمان ہے یا کافر تو اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟ کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں غسل دیا جائے گا یا نہیں؟
برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی جگہ کوئی لاش ملے اور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم تو سب سے پہلے اس کے بدن، لباس یا دیگر علامات سے مسلمان ہونے یا کافر ہونے کی علامات تلاش کی جائیں، اگر اسلام کی علامات پائی جائیں تو اس کے ساتھ مسلمان کا سا معاملہ کیا جائے گا؛ یعنی غسل، کفن اور نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، اگر کفر کی علامات ظاہر ہوں تو کافر والا معاملہ کیا جائے گا اور اگر کوئی واضح علامت نہ ملے تو علاقہ دیکھا جائے گا، اگر وہ لاش مسلمانوں کے علاقے یا ان کے قریب ملی ہو تو مسلمان سمجھ کر تدفین کی جائے گی، اگر کفار کے علاقے یا ان کے قریب پائی جائے تو اس کے ساتھ غیر مسلم کا معاملہ کیا جائے گا۔

حوالہ جات

*الدر المختار:(200/2،ط: دارالفكر)*
لو لم يدر أمسلم أم كافر، ولا علامة فإن في دارنا غسل وصلي عليه وإلا لا. اختلط موتانا بكفار ولا علامة.

*الشامية:(200/2،ط: دارالفكر)*
(قوله فإن في دارنا إلخ) أفاد بذكر التفصيل في المكان بعد انتفاء العلامة أن العلامة مقدمة وعند فقدها يعتبر المكان في الصحيح لأنه يحصل به غلبة الظن كما في النهر عن البدائع. وفيها أن علامة المسلمين أربعة الختان والخضاب ولبس السواد وحلق العانة اهـ.

*المبسوط للسرخسى:(54/2،ط:دار المعرفة)*
(قال) وإذا وجد ميت لا يدرى أمسلم هو أم كافر فإن كان في قرية من قرى أهل الإسلام فالظاهر أنه مسلم فيغسل ويصلى عليه وإن كان في قرية من قرى أهل الشرك فالظاهر أنه منهم فلا يصلى عليه إلا أن يكون عليه سيما المسلمين فحينئذ يغسل ويصلى عليه وسيما المسلمين الختان والخضاب.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
38
فتوی نمبر 1666کی تصدیق کریں