مردہ اور میت

مرنے والے کا پہلا دن کونسا شمار ہوگا

فتوی نمبر :
2477
عبادات / جنائز / مردہ اور میت

مرنے والے کا پہلا دن کونسا شمار ہوگا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب!
ایک آدمی فوت ہوا، لیکن جس دن وہ فوت ہوا اس دن اس کو نہیں دفنایا گیا، بلکہ اگلے دن عصر کے بعد اسے دفنایا گیا تو مرنے والے کا پہلا دن کون سا شمار ہوگا ؟
یہ جس دن مرا ہے یا جس دن دفن ہوا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ موت روح کے بدن سے نکل جانے کا نام ہے، لہذا جس وقت بدن سے روح نکل جائے اسی وقت سے انسان مردہ شمار ہوتا اور اسی وقت سے اس کا پہلا دن شروع ہو جاتا ہے، اگرچہ تدفین تاخیر سے کی جائے ۔

حوالہ جات

*سنن الترمذي: (رقم الحدیث:1376،ط:دار الغرب الإسلامي)*
عن أبي هريرة ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌إذا ‌مات ‌الإنسان ‌انقطع ‌عمله إلا من ثلاث:» صدقة جارية، وعلم ينتفع به، وولد صالح يدعو له
هذا حديث حسن صحيح.

*التفسير المظهري: (10/ 225،ط:مكتبة الرشدية)*
أن مقر أرواح المؤمنين فى عليين او فى السماء السابعة ونحو ذلك كما مر ومقر أرواح الكفار فى سجين ومع ذلك لكل روح منها ‌اتصال ‌لجسده ‌فى ‌قبره لا يدرك كنهه الا الله تعالى وبذلك.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2477کی تصدیق کریں