السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مسئلہ یہ عرض کرنا ہے کہ ایک حافظ قران ہے جو پورا سال داڑھی کاٹتا ہے اور رمضان المبارک میں داڑھی نہیں کاٹتا اور وہ تراویح بھی پڑھاتا ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہے آیا وہ تراویح پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ ڈاڑھی منڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے اور ایسا شخص شرعاً فاسق شمار ہوتا ہے، فاسق کی امامت مکروہِ تحریمی ہے، لہٰذا ایسے حافظِ قرآن کو نماز یا تراویح کی امامت دینا جائز نہیں۔
جو شخص صرف رمضان میں تراویح کے لیے ڈاڑھی رکھے اور بعد میں کٹوا دے، وہ سنت کی بے ادبی کرنے والا ہے، ایسے افراد کو چاہیے کہ صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں اور ہمیشہ سنت کے مطابق ڈاڑھی رکھنے کا اہتمام کریں، بہتر یہ ہے کہ تراویح کسی باعمل، دین دار اور سنت پر کاربند امام کے پیچھے ادا کی جائے۔
*سنن ابي داوود:(39/1 ، رقم الحدیث:53، ط: دارالرسالةالعالمية)*
عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: «عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك، والاستنشاق بالماء
*الدر مع الرد:(418/2 ،ط: دارالفکر)*
وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم فتح.
مطلب في الأخذ من اللحية (قوله: وأما الأخذ منها إلخ) بهذا وفق في الفتح بين ما مر وبين ما في الصحيحين عن ابن عمر عنه صلى الله عليه وسلم: «أحفوا الشوارب واعفوا اللحية» قال: لأنه صح عن ابن عمر راوي هذا الحديث أنه كان يأخذ الفاضل عن القبضة، فإن لم يحمل على النسخ كما هو أصلنا في عمل الراوي على خلاف مرويه مع أنه روي عن غير الراوي وعن النبي صلى الله عليه وسلم يحمل الإعفاء على إعفائها عن أن يأخذ غالبها أو كلها كما هو فعل مجوس الأعاجم من حلق لحاهم، ويؤيده ما في مسلم عن أبي هريرة عنه صلى الله عليه وسلم: «جزوا الشوارب واعفوا اللحى خالفوا المجوس» فهذه الجملة واقعة موقع التعليل، وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد اهـ ملخصا.