عورت کا اپنے رضاعی بھائی کےساتھ حج کے لیے جانا

فتوی نمبر :
1725
معاشرت زندگی / حجاب و شرعی پردہ /

عورت کا اپنے رضاعی بھائی کےساتھ حج کے لیے جانا

لڑکی کا اپنےرضاعی بھائی کےساتھ حج کےلیےجانا کیساہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر فتنے اور شہوت کااندیشہ نہ ہو تو دودھ شریک بھائی کے ساتھ سفر کرنا یا حج اور عمرے کے لیے جانا جائز ہے۔

حوالہ جات

*الشامیة:(2/ 464،ط:دارالفکر)*
وقوله أو ذميا أو برضاع يختص بالمحرم كما لا يخفى ح لكن نقل السيد أبو السعود عن نفقات البزازية ‌لا ‌تسافر ‌بأخيها ‌رضاعا ‌في ‌زماننا اهـ أي لغلبة الفساد.

*الهندية:(1/ 219،ط:دارالفکر)*
ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد ‌بقرابة ‌أو ‌رضاع ‌أو ‌مصاهرة كذا في الخلاصة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
41
فتوی نمبر 1725کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --