غیر مسلم کے ساتھ کاروبار میں شرکت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1729
معاملات / مالی معاوضات /

غیر مسلم کے ساتھ کاروبار میں شرکت کرنے کا حکم

کسی مسلمان کا غیر مسلم کے ساتھ کاروبار میں شراکت کرنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ غیر مسلم کے ساتھ کاروبار میں شراکت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ کاروباری اشتراک کی وجہ سے احکامِ شریعت کی مخالفت نہ ہوتی ہو ۔

حوالہ جات

*البحر الرائق:(5/ 183)*
وأنه ‌يكره ‌للمسلم ‌أن ‌يشارك الذمي اهـ.
يعني: شركة عنان،

*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(6/ 62)*
ويكره للمسلم أن يشارك الذمي؛ لأنه يباشر عقودا لا تجوز في الإسلام، ‌فيحصل ‌كسبه ‌من ‌محظور فيكره، ولهذا كره توكيل المسلم الذمي.
ولو شاركه شركة عنان، جاز كما لو وكله،

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
30
فتوی نمبر 1729کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --