کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے پاس ہزار کا جعلی نوٹ ہے اور دوسرے شخص نے کہا کے یہ ہزار کا جعلی نوٹ مجھے دے دو اور میں اپ کو پانچ سو کا اصلی نوٹ دیتا ہوں یہ جعلی نوٹ میں آگے چلا لونگا
کیا یہ معاملہ کرنا درست ہے؟
پوچھی گئی صورت میں چونکہ ہزار کا نقلی نوٹ خریدنے والے کی نیت دھوکہ دہی کی ہے، لہذا اس کو کسی بھی قیمت پر نقلی نوٹ بیچنا دھوکہ دہی کا سبب ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، حرام ہے ۔
*القرآن:(المائدہ6 :2)*
وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ.
*مسند احمد:( 504/36، رقم:22170، ط:مؤسسة الرسالة)*
"حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."
*الشامیة:(6/ 350،ط:دارالفکر)*
وما كان سببا لمحظور فهو محظور اهـ.