ایک ہزار کا نقلی نوٹ پانچ سو میں خریدنے کا حکم

فتوی نمبر :
2175
معاملات / مالی معاوضات /

ایک ہزار کا نقلی نوٹ پانچ سو میں خریدنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے پاس ہزار کا جعلی نوٹ ہے اور دوسرے شخص نے کہا کے یہ ہزار کا جعلی نوٹ مجھے دے دو اور میں اپ کو پانچ سو کا اصلی نوٹ دیتا ہوں یہ جعلی نوٹ میں آگے چلا لونگا
کیا یہ معاملہ کرنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں چونکہ ہزار کا نقلی نوٹ خریدنے والے کی نیت دھوکہ دہی کی ہے، لہذا اس کو کسی بھی قیمت پر نقلی نوٹ بیچنا دھوکہ دہی کا سبب ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، حرام ہے ۔

حوالہ جات

*القرآن:(المائدہ6 :2)*
وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ.

*مسند احمد:( 504/36، رقم:22170، ط:مؤسسة الرسالة)*
"حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."

*الشامیة:(6/ 350،ط:دارالفکر)*
وما كان ‌سببا ‌لمحظور فهو محظور اهـ.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
37
فتوی نمبر 2175کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --