کعبہ یا گنبد خضرا کی تصویر والے جائے نماز پر بیٹھنا

فتوی نمبر :
1741
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

کعبہ یا گنبد خضرا کی تصویر والے جائے نماز پر بیٹھنا

جائے نماز پر اگر بیت اللہ یا گنبد خضراء یا کتاب نما تصویر بنی ہو تو اس جائے نماز کو نیچے بچھا کر اوپر بیٹھنا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ متبرک مقامات کے بنائے گئے نقوش تصاویر بھی ادب کے قابل ہوتے ہیں، جائے نماز پر کعبہ یا گنبد خضرا کے نقش بنے ہوں تو ان پر بیٹھنا عرفاً بے ادبی شمار ہوتا ہے، اس لیے ایسے مصلّی پر کعبہ وغیرہ کے نقش والی جگہ پر بیٹھنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(الحج 32:22)*
﴿ ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾

*عمدة القاري:(80/22،ط:دار الفكر)*
وفي (المنتهى) لأبي المعالي: استأدب الرجل بمعنى تأدب، والجمع أدباء، وعن أبي زيد: الأدب إسم يقع على كل رياضة محمودة يتخرج بها الإنسان في فضيلة من الفضائل، وقيل: الأدب استعمال ما يحمد قولا وفعلا، وقيل: الأخذ بمكارم الأخلاق، وقيل: الوقوف مع المستحسنات، وقيل: هو تعظيم من فوقك والرفق بمن دونك فافهم.

*فتاوی مفتی محمود:(768/2،ط:جمعیۃ پبلیکیشنز)*
" جائے نمازوں پر جو متبرک نقوش بنائے جاتے ہیں ، اگر وہ کھڑے ہونے کی جگہ پر ہوں تب تو ان پر نماز نہ پڑھی جائے کیوں کہ ایسے متبرک نقوش کے پاؤں تلے آنے میں ان کی بے ادبی سی ہوتی ہے ، اور اگر سجدہ لگانے کی جگہ پر یہ نقوش ہوں جیسے عموماً ہوتا ہے تو اس پر نماز پڑھنے میں کوئی بے ادبی نہیں ہے ،کیوں کہ ایسے نقش پر سجدہ لگانا عرفا خلاف ادب شمار نہیں ہوتا اس لیے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے ، اور ایسے مصلی پر نماز پڑھنی جائز ہے۔"

*فتاویٰ محمودیہ:(671/6،ط:ادارۃ الفاروق کراچی)*
"سوال: جائے نماز پر خانہ کعبہ کی تصویر ہے، اس پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ آیا اس تصویر کو دوسرا کپڑا چڑھا کر چھپا دیا جائے یا کیا کیا جائے؟ اگر فروخت کرتے ہیں تو چوتھائی قیمت ملتی ہے اور مسجد کا نقصان ہے۔
الجواب حامداً ومصلیاً: صورتِ مسئولہ میں ان مصلوں پر نماز پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، نہ ان پر کپڑا چڑھانے کی ضرورت ہے، نہ ان کو فروخت کرنے کی ضرورت ہے، وفي غنية المستملي: "وأما صورة غىر ذي روح، فلا خلاف في عدم كراهة الصلاة عليها أو إليها۔"، ص: 314۔"

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
28
فتوی نمبر 1741کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --