:"ایک شخص اپنی زمین ایک لاکھ پینسٹھ ہزار روپے میں بیچ رہا ہے، مگر بیچ میں کمیشن والا کہتا ہے کہ آپ اسے ایک لاکھ ستر ہزار میں ظاہر کریں، تاکہ مجھے پانچ ہزار کمیشن مل جائے، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ اضافی پانچ ہزار لینا یا اس طرح زیادہ قیمت ظاہر کرنا شرعاً جائز ہے یا یہ دھوکے اور حرام کمائی کے زمرے میں آتا ہے؟"
واضح رہے کہ کمیشن لینا فی نفسہ جائز ہے ، لیکن کمیشن کے لیے کسی چیز کی اپنی اصلی قیمت سے زیادہ قیمت ظاہر کرنا جائز نہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں صرف کمیشن کے لیے 170،000(ایک لاکھ ستر ہزار) ظاہر کرنا جائز نہیں، البتہ اگر اس زمین کی قیمت ہی 170000 (ایک لاکھ ستر ہزار) مقرر کرلی جائے تو جائز ہے۔
*البحر الرائق: (7/ 169،ط؛دار الكتاب الإسلامي):*
وفسر المؤلف ما يتغابن الناس فيه بما يدخل تحت تقويم المقومين فعلم منه أن الغبن الفاحش ما لا يدخل تحت تقويم المقومين وهذا هو الأصح..
*مجلة الأحكام العدلية: (231،ط:دارا ابن حزم)*
المادة (1197) لا يمنع أحد من التصرف في ملكه ما لم يكن فيه ضرر فاحش للغير وفي هذه الحالة يفصل في الفصل الثاني.