ملازم کا 1500 والا کام 500 میں کرنے کی صورت میں بچ جانے والے پیسوں کا حکم

فتوی نمبر :
1760
معاملات / مالی معاوضات /

ملازم کا 1500 والا کام 500 میں کرنے کی صورت میں بچ جانے والے پیسوں کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مسٔلہ یہ عرض کرنا ہے کہ اگر کمپنی کا مالک کسی ملازم کو کسی ارجنٹ کام کیلۓ بھیجے اور 1500 سو خرچہ دے اور کہے فلاں کام جلدی کرکے آجاؤ ملازم لوکل سواری استعمال کرکے وہ کام کرلے جس کا خرچہ پانچ سو ہے تو کیا وہ باقی کے پیسے 1000 اپنے پاس رکھ سکتا ہے یا نہیں.... رہنمائ فرمایں جزاک اللہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں چونکہ ملازم کو اس رقم کا مالک نہیں بنایا گیا، بلکہ اسے یہ رقم کام کرنے کے لیے دی گئی ہے، اگر یہ کام کم لاگت میں مکمل ہو گیا ہے تو بچ جانے والی رقم مالک کو دینا لازم ہے، اپنے پاس رکھنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

*درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام:(587/3،ط:دارالجیل)*
المادۃ:۱۴۷۹ " أما لو قال الموكل: اشتر لي الدار الفلانية بعشرة آلاف درهم واشترى الوكيل بأقل من عشرة آلاف، فيكون قد اشترى للموكل. وقد عينت الدار التي ستشرى (بقيد الفلانية) ؛ لأنه إذا لم تعين كقولك (اشتر لي دارا في الحي الفلاني بعشرة آلاف درهم) واشترى الوكيل داراً في ذلك الحي بأقل من عشرة آلاف درهم، فإذا كانت قيمة تلك الدار عشرة آلاف درهم نفذ الشراء في حق الموكل. أما إذا كانت قيمتها أقل من عشرة آلاف درهم فلا ينفذ في حق الموكل".


*ایضاً:(573/3)*
المادہ:۱۴۶۷ "(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل... لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة".

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
48
فتوی نمبر 1760کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --