ایک شخص کی بہن فوت ہو گئی ہے اور اس بہن کی بیٹی اب اس شخص کے ساتھ رہتی ہے۔ اس لڑکی کے والد نے بھی اسے اس شخص کے حوالے کر دیا ہے کہ وہی اس کی پرورش کرے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ شخص اپنی مانی ہوئی منت (نذر) کے پیسے اس لڑکی پر خرچ کر سکتا ہے یا نہیں؟"
واضح رہے کہ نذر کے مصارف وہی ہیں، جو زکوٰۃ کے مصارف ہیں، یعنی جس طرح زکوٰۃ والدین، اولاد اور میاں بیوی کا ایک دوسرے کو دینا جائز نہیں، اسی طرح نذر کا بھی یہی حکم ہے، البتہ جو دیگر رشتہ دار مستحقِ زکوٰۃ ہوں، انہیں نذر کا مال دینا جائز ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر یہ لڑکی مستحقِ زکوٰۃ ہے تو اس پر نذر کے پیسے خرچ کرنا درست ہے۔
*الشامية: (2/ 339)*
باب المصرف أي مصرف الزكاة والعشر، وأما خمس المعدن فمصرفه كالغنائم (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة.»
وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني..
*ایضا: (6/ 321)*
ولا يأكل الناذر منها؛ فإن أكل تصدق بقيمة ما أكل..
*البحر الرائق: (2/ 263،ط دار الكتاب الإسلامي):*
وقيد بالزكاة؛ لأن النفل يجوز للغني كما للهاشمي، وأما بقية الصدقات المفروضة والواجبة كالعشر والكفارات والنذور وصدقة الفطر فلا يجوز صرفها للغني لعموم قوله عليه الصلاة والسلام «لا تحل صدقة لغني» خرج النفل منها..