زیب و زینت

دولہے کے ہاتھ اور پاؤں پر مہندی لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
1788
آداب / آداب زندگی / زیب و زینت

دولہے کے ہاتھ اور پاؤں پر مہندی لگانے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
ایک مسئلہ درپیش ہے کہ ہمارے ہاں جب کسی کی شادی ہوتی ہے تو شادی سے پہلے اس دولہے کے ہاتھ اور پاؤں پر مہندی لگاتے ہیں کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ وضاحت فرما دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مردوں کے لیے بغیر کسی شرعی ضرورت کے مہندی لگانا مکروہ ہے، کیونکہ یہ عورتوں کی مشابہت میں داخل ہے۔
اسی بنا پر دولہے کے ہاتھ پاؤں پر مہندی لگانا محض ایک غیر شرعی رسم ہے، لہذا اس رسم سے اجتناب ضروری ہے۔

حوالہ جات

*مرقاة المفاتيح: (2828/7، ط: دار الفكر)*
وأما خضب اليدين والرجلين، فيستحب في حق النساء ويحرم في حق الرجال إلا للتداوي.

*رد المحتار: (422/6، ط: دار الفکر)*
قوله خضاب شعره ولحيته) لا يديه ورجليه فإنه مكروه للتشبه بالنساء

*الفتاوى المحمودية:(193/15،ط:الجامعة الفارو قية)*
سوال :شادی سے کچھ دن پہلے لڑکے کو مہندی لگاتے ہیں اور ابٹن لگاتے ہیں؟

جواب: یہ رسم خلاف شرع ہے ،اس کو بند کرنا لازم ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
36
فتوی نمبر 1788کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --