لباس کے آداب و احکام

رواجی عمامہ پہننے کا حکم

فتوی نمبر :
1790
آداب / آداب زندگی / لباس کے آداب و احکام

رواجی عمامہ پہننے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عمامہ باندھنا سنت ہے اس پر ثواب ملنا یقینی ہے، لیکن آج کل جو لوگ رواجی پگڑیاں باندھتے ہیں یا جو اپنے پیر و مرشد یا لیڈر کی اتباع میں ان کی طرح پگڑیاں باندھتے ہیں تو کیا اس طرح کرنے سے عمامہ کی سنت ادا ہوگی ؟
اور اس پر ثواب ملےگا یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نبی کریمﷺ کی سنتیں دو قسم کی ہیں:
ایک وہ سنتیں ہیں جو عبادات کے قبیل سے ہیں ان کو سننِ ہدیٰ اور سننِ غیر عادیہ کہا جاتا ہے، مثلاً اقامت، اذان اور با جماعت نماز اداکرنا وغیرہ۔
دوسری وہ سنتیں ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور عادت اختیار کیا ہو،ان کو سنن عادیہ اور سنن زوائد کہتے ہیں، مثلا:کپڑے پہننے کا طریقہ ،کھانا کھانے کا طریقہ وغیرہ ۔
سنن زوائد پر عمل کرنے سے ثواب ملے گا اور چھوڑنے پر گناہ نہیں ہو گا ،جبکہ سنن ہدی اگر سنن مؤکدہ ہیں تو ان کو بغیر عذر کے ہمیشہ ترک کرنا گناہ ہے اور اگر سنن غیر مؤکدہ ہیں تو ان کو کرنے پر ثواب ہے، نہ کرنے پر گناہ نہیں ۔
اس تفصیل کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ عمامہ سننِ عادیہ ( سنن زوائد) میں سے ہے، اس پر عمل کرنا باعثِ ثواب ہے، البتہ اس کو ضروری سمجھنا اور نہ پہننے کی صورت میں ملامت کرنا درست نہیں، اسی طرح مخصوص رنگ یا طرز کے عمامہ کو لازم سمجھنا یا محض رسم ورواج کی وجہ سے اس کی پابندی کرنا بھی درست نہیں۔

حوالہ جات

*المنهل العذب المورود :(4/ 238،ط: مطبعة الاستقامة)*
«‌وسنة ‌الهدى ‌ما ‌تكون ‌إقامتها ‌تكميلا ‌للدين ‌تاركها ‌بلا ‌عذر ‌على ‌سبيل ‌الإصرار ‌ملوم فهى من العبادات بخلاف سنن الزوائد كقيامه صلى الله تعالى عليه وعلى آله وسلم وقعوده ونومه ولباسه أخذها حسن يثاب عليه وتركها لا يساء عليه.

*رد المحتار :(1/ 103،ط:دارالفكر)*
‌والسنة ‌نوعان: ‌سنة ‌الهدي، وتركها يوجب إساءة وكراهية كالجماعة والأذان والإقامة ونحوها. وسنة الزوائد، وتركها لا يوجب ذلك كسير النبي عليه الصلاة والسلام في لباسه وقيامه وقعوده. والنفل ومنه المندوب يثاب فاعله ولا يسيء تاركه، قيل: وهو دون سنن الزوائد.
ويرد عليه أن النفل من العبادات وسنن الزوائد من العادات، وهل يقول أحد إن نافلة الحج دون التيامن في التنعل والترجل، كذا حققه العلامة ابن الكمال في تغيير التنقيح وشرحه.
أقول: فلا فرق بين النفل وسنن الزوائد من حيث الحكم؛ لأنه لا يكره ترك كل منهما، وإنما الفرق كون الأول من العبادات والثاني من العادات، لكن أورد عليه أن الفرق بين العبادة والعادة هو النية المتضمنة للإخلاص، كما في الكافي وغيره، وجميع أفعاله صلى الله عليه وسلم مشتملة عليها كما بين في محله.
وأقول: قد مثلوا لسنة الزوائد أيضا «بتطويله عليه الصلاة والسلام القراءة والركوع والسجود» ، ولا شك في كون ذلك عبادة، وحينئذ فمعنى كون سنة الزوائد عادة أن النبي صلى الله عليه وسلم واظب عليها حتى صارت عادة له ولم يتركها إلا أحيانا؛ لأن السنة هي الطريقة المسلوكة في الدين، فهي في نفسها عبادة وسميت عادة لما ذكرنا. ولما لم تكن من مكملات الدين وشعائره سميت سنة الزوائد، بخلاف سنة الهدي، وهي السنن المؤكدة القريبة من الواجب التي يضلل تاركها؛ لأن تركها استخفاف بالدين.

*عمدۃ الرعایة بتحشیة شرح الوقایة للإمام محمد عبد الحي اللكنوي:(2/202،ط:دارالكتب العلمية)*
و قد ذكروا أنَّ المستحبَّ أن يصلّي في قميصٍ و إزار وعمامة، و لايكره الاكتفاءُ بالقلنسوة، و لا عبرةَ لما اشتهر بين العوام من كراهة ذلك، و كذا ما اشتهرَ أنّ المؤتمّ لو كان معتماً العمامة، و الإمامُ مكتفيًا على قلنسوة يكره."

*شرح المشكاة للطيبي :(3/ 1051،ط: مكتبة نزار)*
فيه أن ‌من ‌أصر ‌علي ‌أمر ‌مندوب، وجعله عزماً ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال، فكيف بمن أصر علي بدعة ومنكر؟.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
48
فتوی نمبر 1790کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --