مسلمان کو منافق کہنے کا حکم

فتوی نمبر :
1832
عقائد / /

مسلمان کو منافق کہنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک تبلیغی ہے اور اعمال کے اعتبار سے کچھ کمزوریاں ہیں ایک بندہ اس کو کہتا ہے کہ یہ منافق ہے تو اس شخص کا اس منافق کہنا کیسا ہے ؟ اس کا کیا حکم ہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نفاق ایک پوشیدہ امر ہے، جس کے بارے میں یقینی فیصلہ کرنے کا کسی کو حق نہیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نفاق کا قطعی حکم دینا رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے ساتھ خاص تھا، اب یا تو مؤمن ہے یا کافر، اس لیے کسی مسلمان کو متعین طور پر منافق کہنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

الصحيح البخاري:(58/9،ط:دار طوق النجاة)*
حدثنا خلاد، حدثنا مسعر، عن حبيب بن أبي ثابت، عن أبي الشعثاء، عن حذيفة قال: «إنما كان النفاق على عهد النبي ﷺ، فأما اليوم: فإنما هو الكفر بعد الإيمان.

*عمدة القاري شرح صحيح البخاري:(222/1،ط:إحياء التراث العربي)*
السادس: ما قاله حذيفة: ذهب النفاق، وإنما كان النفاق على عهد رسول الله، ولكنه الكفر بعد الإيمان، فإن الإسلام شاع وتوالد الناس عليه، فمن نافق بأن أظهر الإسلام وأبطن خلافه فهو مرتد.

*الھندیة:(278/2،ط: دار الفكر)*
ولو قال لمسلم أجنبي: يا كافر، أو لأجنبية يا كافرة، ولم يقل المخاطب شيئا، أو قال لامرأته يا كافرة، ولم تقل المرأة شيئا، أو قالت المرأة لزوجها يا كافر ولم يقل الزوج شيئا كان الفقيه أبو بكر الأعمش البلخي يقول يكفر هذا القائل وقال غيره من مشايخ بلخ رحمهم الله تعالى لا يكفر والمختار للفتوى في جنس هذه المسائل أن القائل بمثل هذه المقالات إن كان أراد الشتم ولا يعتقده كافرا لا يكفر، وإن كان يعتقده كافرا فخاطبه بهذا بناء على اعتقاده أنه كافر يكفر كذا في الذخيرة

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
44
فتوی نمبر 1832کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155