اللہ تعالیٰ کو گالی دینے والے کے ایمان اور نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
1838
عقائد / /

اللہ تعالیٰ کو گالی دینے والے کے ایمان اور نکاح کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے غصے کی حالت میں اللہ تبارک و تعالی کی ذات اقدس کو گالی دی (العیاذ باللہ )بعد میں وہ اپنے اس عمل پر پشیمان ہوا اور اس نے توبہ کر لی۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ شریعت اس شخص کے بارے میں کیا حکم دیتی ہے ؟آیا اس کا ایمان اور نکاح باقی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اللہ تبارک و تعالی کی ذات اقدس کو گالی دینے سے آدمی مرتد ہو جاتا ہے ،ایسا شخص واجب القتل ہے ،البتہ اگر توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول ہے اور توبہ کرنے کے بعد اس کے لیے تجدید نکاح ضروری ہے۔

حوالہ جات

الدرالمختار مع رد المحتار(4/ 232، ط: دارالفكر)
ولو ‌سب الله تعالى قبلت لأنه حق الله تعالى، والأول حق عبد لا يزول بالتوبة. فهذا ‌كلام ‌الشفاء صريح في أن مذهب أبي حنيفة وأصحابه القول بقبول التوبة...

ايضا:(4/ 230،ط: دارالفكر)
أن ما يكون كفرا اتفاقا ‌يبطل ‌العمل ‌والنكاح، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح وظاهره أنه أمر احتياط.

الموسوعة الفقهية: (24/ 135، ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامية )
سب الله تعالى إما أن يقع من مسلم أو كافر.فإن وقع من مسلم فإنه يكون كافرا ‌حلال ‌الدم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
62
فتوی نمبر 1838کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 158