احکام وراثت

مرض الموت میں کسی وارث کو جائیداد ہبہ کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1861
معاملات / ترکات / احکام وراثت

مرض الموت میں کسی وارث کو جائیداد ہبہ کرنے کا حکم

ہمارا ایک دوست ہے، اس کے والد ایک ضعیف، سفید ریش اور بیمار شخص تھے، لیکن ان کی عقل و ہوش درست تھی، انہوں نے اپنی دوسری بیوی کو محلے کے معززین کی موجودگی میں ایک حویلی ہبہ (گفٹ) کر دی۔ ہبہ نامہ لکھے جانے اور والد کے انتقال کو اب دو سال دو ماہ گزر چکے ہیں، لیکن اب پہلی بیوی کے اولاد دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہمارے والد بیمار تھے، اس لیے یہ ہبہ معتبر نہیں ہے پوچھنا یہ ہے کہ کیا شوہر کی طرف سے بیوی کے لیے یہ ہبہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟ شریعت کی رو سے شوہر اپنی بیوی کو کس عمر یا کس حالت تک مال ہبہ کر سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شوہر اپنی بیوی کو ہر عمر اور ہر حالت میں مال ہبہ کر سکتا ہے، بشرطیکہ عقل و ہوش سلامت ہو اور قبضہ دے دیا جائے، ہبہ اگر حالتِ صحت میں ہو تو مکمل نافذ ہو جاتا ہے اور اگر مرضِ موت میں ہو اور اجنبی کے لیے ہو تو ایک تہائی میں نافذ ہوتا ہے، جبکہ وارث کے لیے ہو تو وہ وصیت کے حکم میں داخل ہوتا ہے اور دیگر ورثا کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں شوہر نے اپنی دوسری بیوی کو محلے کے معززین کی موجودگی میں جو حویلی ہبہ کی، اگر وہ مرضِ موت کی کیفیت میں نہیں تھا اور بیوی کو اس پر بالفعل قبضہ بھی دلایا گیا تھا تو شرعاً یہ ہبہ صحیح اور نافذ ہے اور دوسری بیوی کی اولاد کا اب اس میں کوئی حق نہیں۔
اور اگر قبضہ نہیں دلایا گیا تھا تو ہبہ تام نہ ہونے کی وجہ سے حویلی تمام ورثا میں تقسیم ہوگی۔

حوالہ جات

مسند دارمى:(رقم الحديث:3303)*
عن عمرو بن خارجة، قال: كنت تحت ناقة النبي صلى الله عليه وسلم، وهي تقصع بجرتها، ولعابها ينوص بين كتفي، سمعته يقول: «ألا إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه، فلا يجوز وصية لوارث.

*الهداية:(4/ 514،ط:دار احياء التراث العربي)*
والهبة من المريض للوارث في هذا ‌نظير ‌الوصية" لأنها وصية حكما حتى تنفذ من الثلث.

*مجمع الأنهر :(2/ 696،طدار إحياء التراث العربي)*
والهبة والصدقة من المريض لوارثه ‌نظير ‌الوصية؛ لأنه وصية حكما حتى تعتبر من الثلث.

*مجمع الانهر:(353/2،ط:دار إحياء التراث العربي)*
وتتم) الهبة (بالقبض الكامل)، ولو كان الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به لقوله عليه السلام: «لا تجوز الهبة إلا مقبوضة» والمراد هنا نفي الملك لا الجواز؛ لأن جوازها بدون القبض ثابت خلافا لمالك، فإن عنده ليس القبض بشرط الهبة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
34
فتوی نمبر 1861کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --