چوری کیا ہوا مال واپس کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1869
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

چوری کیا ہوا مال واپس کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی نے دوسرے سے کوئی چیز چوری کی بعد میں وہ اپنے اس عمل پر پشیمان ہوا اور اب وہ وہ چیز واپس کرنا چاہتا ہے لیکن اگر وہ یہ بتا کر واپس کر دے کہ یہ میں نے چوری کی تھی تو شرمندگی ہوگی لہذا وہ چاہتا ہے کہ جس سے چوری کی ہے اس سے کہے کہ یہ تحفہ ہے میری طرف سے آپ کے لیے اور اس طرح وہ چیز یا اس کی قیمت واپس کر دے تو آیا اس طرح کرنے سے وہ بری الذمہ ہو جائے گا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کسی شخص نے کسی کا مال چوری کیا اور اب وہ اسے واپس کرنا چاہتا ہے تو چاہے یہ اسے ہدیہ( تحفہ) گفٹ کا نام دے ،یا اصل بات بتائے ،بہر صورت واپس کر دینے سے چور بری الذمہ ہو جائے گا ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم :[المائدة:/5 34]
إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ مِن قَبۡلِ أَن تَقۡدِرُواْ عَلَيۡهِمۡۖ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ.

الدرالمختار :(4/ 109، ط: دارالفكر)
(‌سرق ‌شيئا ورده قبل الخصومة) عند القاضي (إلى مالكه) ولو حكما كأصوله ولو في غير عياله (أو ملكه) أي المسروق (بعد القضاء) بالقطع ولو بهبة مع قبض (أو ادعى أنه ملكه) وإن لم يبرهن للشبهة (أو نقصت قيمته من النصاب) بنقصان السعر في بلد الخصومة (لم يقطع) في المسائل الأربع.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
34
فتوی نمبر 1869کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --