کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں عصر کی نماز پڑھنے مسجد گیا تو امام صاحب دو رکعتیں پڑھا چکے تھے ،میں نے بقیہ دو رکعت ان کے ساتھ پڑھی اور جب قعدہ ٔاخرہ میں بیٹھا تو بھول کر التحیات کے بعد میں نے پوری درود شریف پڑھ لی، اس کے بعد اپنی دو رکعتیں مکمل کر کے میں نے آخر میں سجدۂ سہوہ کیا
اب پوچھنا یہ ہے کہ میری یہ نماز صحیح ہوئی یا نہیں؟
واضح رہے کہ مسبوق مقتدی پر امام کی متابعت کی وجہ سے بھول کر درود شریف پڑھنے سے سجدے سہو واجب نہیں ہوتا لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر درود شریف پڑھا اور آخر میں سجدہ ٔ سہو بھی کر لیا تو نماز بلاکراہت درست ہوگی۔
الدرالمختار : (2/ 82، ط: دارالفكر)
(ومقتد بسهو إمامه إن سجد إمامه) لوجوب المتابعة (لا بسهوه) أصلا.
الشامية :(2/ 82، ط: دارالفكر)
(قوله لا بسهوه أصلا) قيل لا فائدة لقوله أصلا، وليس بشيء، بل هو تأكيد لنفي الوجوب لأن معناه لا قبل السلام للزوم مخالفة الإمام ولا بعده لخروجه من الصلاة بسلام الإمام لأنه سلام عمد ممن لا سهو عليه كما في البحر.