کرسی پر بیٹھ کر پیر ہلانا

فتوی نمبر :
1899
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

کرسی پر بیٹھ کر پیر ہلانا

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
محترم مفتی صاحب! ایک سوال ہے:اگر کوئی شخص عام طور پر کرسی پر بیٹھا ہو اور بلا ارادہ یا عادتاً اپنے پاؤں کو بار بار ہلاتا ہو (مثلاً نیچے سے اوپر یا آگے پیچھے ہلانا) تو کیا اس عمل کو خلافِ ادب شمار کیا جائے گا؟ اور کیا یہ حرکت اخلاقی یا شرعی لحاظ سے کسی خرابی یا ناپسندیدگی میں آتی ہے؟ یا صرف ایک معمولی عادت سمجھی جائے گی ؟جس پر تنبیہ کی ضرورت نہیں۔
برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کرسی یا کسی اور جگہ بیٹھ کر پاؤں ہلانا ایک عبث اور بے فائدہ عادت ہے، یہ عمل نہ صرف انسان کی سنجیدگی کو متاثر کرتا ہے، بلکہ آداب و اخلاق کے بھی خلاف سمجھا جاتا ہے، ایسی حرکات دوسروں کے لیے ناگواری کا سبب بن سکتی ہیں، ایک مہذب اور باوقار انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی نشست و برخاست میں سکون اور وقار اختیار کرے اور اس قسم کی غیر ضروری عادتوں سے اجتناب کرے۔

حوالہ جات

الاختيار لتعليل المختار:(82/2،ط:دار الكتب العلمية)*
الأدب: هو التخلق بالأخلاق الجميلة والخصال الحميدة في معاشرة الناس ومعاملتهم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
24
فتوی نمبر 1899کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --