قطب ستارے کی طرف پاؤں کر کے سونا

فتوی نمبر :
1901
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

قطب ستارے کی طرف پاؤں کر کے سونا

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اکثر عورتوں سے سنا ہے کہ خانۂ کعبہ کی طرف یا اس کے دائیں جانب پاؤں کر کے نہیں سونا چاہیے۔
خانۂ کعبہ کی طرف پاؤں کرنے کا تو معلوم ہے، لیکن دائیں جانب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قطب ستارے کی سمت ہوتی ہے۔کیا یہ بات درست ہے؟ براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔
اور اگر کوئی شخص خانۂ کعبہ کی طرف پاؤں کر کے سو جائے تو اس کی معافی ہو جاتی ہے، مگر قطب ستارے کی طرف پاؤں کرنے کی معافی نہیں ہوتی، کیا یہ بات حقیقت ہے یا محض کوئی بدعت اور غلط عقیدہ ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قطب ستارہ آسمان کا ایک معروف ستارہ ہے، جو شمال کی سمت میں واقع ہونے کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، قدیم زمانے سے مسافر اور ملاح سمت معلوم کرنے کے لیے قطب ستارے سے رہنمائی حاصل کرتے رہے ہیں۔
شرعی اعتبار سے قطب ستارہ محض ایک ستارہ ہے، اس کی کوئی عبادت یا تقدیس نہیں، لہٰذا شرعاً اصل حکم قبلہ کی تعظیم کا ہے، نہ کہ ستاروں کی سمت کا، جہاں قبلہ شمال میں نہ ہو، وہاں قطب ستارے کی طرف پاؤں کرنا ممنوع نہیں، یہ کہنا کہ قطب ستارے کی طرف پاؤں کر کے سونا گناہ ہے، غلط عقیدہ ہے۔

حوالہ جات

*مراقي الفلاح:(27/1،ط:المكتبة العصرية)*
«ويكره تحريما استقبال القبلة» بالفرج حال قضاء الحاجة واختلفوا في استقبالها للتطهير واختار التمرتاشي عدم الكراهة «و» يكره «استدبارها» لقوله ﵇: «إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها ولكن شرقوا أو غربوا» وهو بإطلاقه منهي عنه «ولو في البنيان» وإذا جلس مستقبلا ناسيا فتذكر وانحرف إجلالا لها لم يقم من مجلسه حتى يغفر له كما أخرجه الطبراني مرفوعا ويكره إمساك الصبي نحو القبلة للبول.

*المحيط البرهاني:(321/5،ط:دار الكتب العلمية)*
ويكره مد الرجلين إلى القبلة في النوم وغيره عمدًا، وكذلك يكره مد الرجلين إلى المصحف، وإلى كتب الفقه لما فيه من ترك تعظيم جهة القبلة.

*الشامية:(655/1،ط: دارالفكر)*
ويكره) تحريما (استقبال القبلة بالفرج) ولو (في الخلاء) بالمد: بيت التغوط، وكذا استدبارها (في الأصح كما كره) لبالغ (إمساك صبي) ليبول (نحوها، و) كما كره (مد رجليه في نوم أو غيره إليها) أي عمدا لأنه إساءة أدب قاله منلا ناكير.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
53
فتوی نمبر 1901کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --