قرآن خوانی

ختم قرآن کی خوشی میں دعوت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1907
عبادات / نوافل عبادات / قرآن خوانی

ختم قرآن کی خوشی میں دعوت کرنے کا حکم

جب کوئی بچہ قرآن شریف حفظ یا ناظرہ مکمل کرتا ہے تو اس کے بعد دعوت کی جاتی ہے اس دعوت کا کیا حکم ہے؟
کیا یہ بدعت ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ختم قرآن کے موقع پر خوشی کا اظہار کرنا عملا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے، لہذا بچے کے قرآن مجید مکمل کرنےپر اگر کوئی شخص اپنی رضامندی سے اپنی وسعت کے مطابق ریاکاری سے بچتے ہوئے دعوت کا انتظام کرے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

شعب الإيمان:(3/ 346 ،رقم الحديث:1805،ط: الرشد للنشر والتوزيع بالرياض)*
وأخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان، حدثنا أبو علي محمد بن أحمد بن الحسن الصواف، حدثنا بشر بن موسى، حدثنا أبو بلال الأشعري، حدثنا مالك بن أنس، عن نافع، عن ابن عمر قال: تعلم عمر بن الخطاب رضي الله عنه البقرة في اثنتي عشرة سنة. فلما ‌ختمها ‌نحر ‌جزورا.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
44
فتوی نمبر 1907کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --