اپنی بہن سے زنا کرنے والے شخص کا حکم

فتوی نمبر :
1929
عقوبات / حدود و سزا /

اپنی بہن سے زنا کرنے والے شخص کا حکم

مفتی صاحب !
ایک آدمی اپنی بہن سے زنا کرتا ہے ، تو شریعت میں اس کی کیا سزا ہے ؟ اور اگر یہ آدمی توبہ کرلے ، تو کیا اس کی توبہ قبول ہوگی یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زنا کرنا انتہائی شنیع اور قابلِ ملامت فعل ہے ، اسلام نے زناکرنے والوں کے لیے انتہائی سخت سزا مقرر کی ہے ، زانی اگر شادی شدہ ہو ،تو اسے سنگسار (پتھر مارمار کر قتل کردینا ) کیا جائے گا ، اور اگر غیر شادی شدہ ہو ،تواسے سو کوڑے لگائے جائیں گے ۔
نیز زنا کرنے میں محارم اور غیر محارم سب برابر ہیں ، البتہ اپنی کسی محرم سے زنا کرنا اور بھی زیادہ شنیع اور قابل مذمت ہے ۔باقی کوڑے لگانے یا سنگسار کرنے کا اختیار صرف حاکم وقت کے پاس ہے ۔تاہم اگر یہ شخص صدق دل سے توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم : [النور:/24 2]
ٱلزَّانِيَةُ وَٱلزَّانِي فَٱجۡلِدُواْ كُلَّ وَٰحِدٖ مِّنۡهُمَا مِاْئَةَ جَلۡدَةٖۖ .

التفسير المنير : (18/ 124، ط: دارالفكر)
{فَاجْلِدُوا} الجلد: ‌ضرب ‌الجلد، وهو حكم البكر غير المحصن، لما ثبت في السنة أن حدّ المحصن هو الرجم. والإحصان: بالحرية والبلوغ والعقل والدخول في نكاح صحيح، وبالإسلام عند الحنفية.

سنن ابن ماجه: (2/ 1419 ، رقم الحديث : 4250، ط: دار إحياء الكتب العربية )
عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: التائب من الذنب، ‌كمن ‌لا ‌ذنب ‌له .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
25
فتوی نمبر 1929کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --