کتے کا جھوٹا پانی کسی حلال جانور کو پلانے کا حکم

فتوی نمبر :
1937
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

کتے کا جھوٹا پانی کسی حلال جانور کو پلانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کتا کسی پانی سے بھرے ہوئے برتن میں منہ ڈال دے تو کیا یہ پانی ہم بکری وغیرہ حلال جانوروں کو پلا سکتے ہیں؟ اور اگر یہ پانی کسی حلال جانور کو پلا لیا تو اس کے دودھ پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کتے کا جھوٹا ناپاک ہے اور ناپاک پانی کسی حلال جانور کو پلانا درست نہیں ،لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر صاف ستھرا اور پاک پانی موجود نہ ہو تب تو یہ پانی حلال جانوروں کو پلا سکتے ہیں، لیکن اگر پاک صاف پانی موجود ہو، تو اس طرح کا پانی حلال جانوروں کو پلانا جائز نہیں ہے ،تاہم اگر یہی پانی کسی حلال جانور کو پلایا گیا تو اس کے گوشت اور دودھ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

الشامية : (1/ 223، ط: دارالفكر)
ولو أكلت النجاسة وغيرها ‌بحيث ‌لم ‌ينتن ‌لحمها حلت. اهـ. وبه علم أن الجلالة التي يكره سؤرها هي التي لا تأكل إلا النجاسة حتى أنتن لحمها؛ لأنها حينئذ غير مأكولة، ولذا قال في الجوهرة: فإن كانت تخلط أو أكثر علفها علف الدواب لا يكره سؤرها. اهـ. قلت: بقي شيء، وهو أن الغالب أن الإبل تجتر كالغنم وجرتها نجسة كسرقينها كما سيأتي، ومقتضاه أن يكون سؤرها مكروها وإن لم تكن جلالة ولم أر من تعرض له، وإنما المفهوم من إطلاقهم عدم الكراهة فليتأمل.

تبيين الحقائق : (6/ 10، ط: دار الكتاب الإسلامي )
أما التي تخلط بأن تتناول ‌النجاسة ‌والجيف، وتتناول غيرها على وجه لا يظهر أثر ذلك في لحمها فلا بأس به ولهذا يحل أكل لحم جدي غذي بلبن الخنزير؛ لأن لحمه لا يتغير، وما غذي به يصير مستهلكا لا يبقى له أثر.
الموسوعة الفقهية الكويتية: (40/ 108، ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامية )
ويقول الحنفية بحرمة الانتفاع بالخمر في التداوي ‌بالاحتقان وسقي الدواب والإقطار في الإحليل، ذلك لأن الانتفاع بالنجس حرام، فإذا حرم سقي الدواب بالنجس حرم إطعامها به .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
52
فتوی نمبر 1937کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --